نواز شریف

Jump to navigation Jump to search
نواز شریف
Nawaz Sharif January 2015.jpg 

مناصب
وزیر اعلیٰ پنجاب   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
9 اپریل 1985  – 13 اگست 1990 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png صادق حسین قریشی 
غلام حیدر وائیں  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg وزیر اعظم پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
6 نومبر 1990  – 18 اپریل 1993 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png غلام مصطفی جتوئی 
معین الدین احمد قریشی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر خزانہ پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
6 اگست 1993  – 7 نومبر 1998 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سرتاج عزیز 
اسحاق ڈار  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Leader of the Opposition Pakistan.png قائد حزب اختلاف (پاکستان)   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
19 اکتوبر 1993  – 5 نومبر 1996 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بینظیر بھٹو 
بینظیر بھٹو  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg وزیر اعظم پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
17 فروری 1997  – 12 اکتوبر 1999 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png معراج خالد 
ظفر اللہ خان جمالی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن چودہویں قومی اسمبلی پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
رکن مدت
1 جون 2013  – 28 جولا‎ئی 2017 
حلقہ انتخاب حلقہ این اے۔120 
پارلیمانی مدت چودہویں قومی اسمبلی 
Flag of the Prime Minister of Pakistan.svg وزیر اعظم پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
5 جون 2013  – 28 جولا‎ئی 2017 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png میر ہزار خان کھوسو 
شاہد خاقان عباسی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر دفاع پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
7 جون 2013  – 27 نومبر 2013 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png میر ہزار خان کھوسو 
خواجہ محمد آصف  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر 1949 (69 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش وزیراعظم ہاؤس
لاہور
اسلام آباد
جدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان مسلم لیگ (1993–)
پاکستان مسلم لیگ (ن)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ کلثوم نواز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد مریم نواز،  حسین نواز،  حسن نواز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد میاں محمد شریف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور
پنجاب یونیورسٹی لا کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تخصص تعلیم ایڈمنسٹریشن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد فاضل الفنیات،فاضل القانون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  کرکٹ کھلاڑی،  کارجو،  وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
اگ نوبل انعام
Ord.GoodHope-ribbon.gif گرینڈ کولار آف دی آرڈر آف گوڈ ہوپ
UK Order St-Michael St-George ribbon.svg نائیٹ گرینڈ کراس آف دی آرڈر آف سینٹ مائیکل اینڈ سینٹ جورج
آرڈر آف دی ریپبلک میڈل آف ترکی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔

نواز شریف ایک درمیانی امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تجارت کی تعلیم اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ کچھ حمایتیوں کے سبب، نواز شریف ضیا دور ہی میں، وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، جس پر دوبارہ مارشل لا کے بعد 1988ء میں منتخب ہوئے۔ 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی، جس پر فتح ملی اور وزیر اعظم بنے۔ بعد میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے نواز شریف کے حق میں انتخابی عمل میں لاکھوں روپے کی رشوت سیاست دانوں میں تقسیم کی۔

پہلی شریف انتظامیہ کو غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ پاکستان سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو منصف اعلیٰ نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں ایک معاہدے کے تحت استعفا دے دیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدا چھوڑنا پڑا۔ نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔[2][3] انہیں اکتوبر 1999ء میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔[4][5]

ذاتی زندگی اور تعلیم

نواز شریف 25 دسمبر 1949ء[6][7] کو پنجاب، لاہور میں کشمیری[7] شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ نواز شریف کی والدہ کا تعلق پلوامہ سے تھا۔[8] ان کے والد میاں محمد شریف ایک کشمیری صنعت کار و تاجر تھے جن کا تعلق کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے تھا، وہاں سے ہجرت کر کے وہ جاتی عمرہ، امرتسر میں چلے گئے اور وہاں کاروبار شروع کیا، محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان جاری تھی، جس کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان آزاد ہو کيا تو، وہ امرتسر سے لاہور منتقل ہو گئے۔ میاں محمد شریف شروع میں ڈاکٹر طاہر القادری سے متاثر تھے، بعد ازاں وہ عدم تقلید کی طرف مائل ہو گئے۔ نواز شریف نے ابتدائی تعليم سينٹ اينتھنيز ہائیاسکول، لاہور سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گريجويشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے قانون (وکالت) کی ڈگری حاصل کی۔

سیاسی تاریخ

نوازشریف کی سیاسی تربیت پاکستان کے فوجی آمر جنرل محمد ضیاءالحق کے زیر سایہ ہوئی۔ ضیاء دور میں وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ وہ صوبے کے سالانہ ترقياتی پروگرام ميں ديہی ترقی کے حصے کو 70% تک لانے ميں کامياب ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کھيلوں کے وزير بھی رہے اور صوبے میں کھيلوں کی سرگرميوں کی نئے سرے سے تنظيم کی۔

آمریت کے زیرِ سایہ 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں مياں نواز شریف قومی اور صوبایی اسمبليوں کی سيٹوں پہ بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔ 9 اپريل ،1985ء کو انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تاہم مياں نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔[9] یہ امر نوازشریف کے جنرل ضیاء سے قریبی مراسم کی نشان دہی کرتا ہے۔ جنرل ضیاء نے ایک بار نوازشریف کو اپنی عمر لگ جانے کی بھی دعا دی۔

1988ء میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے جب جنرل جیلانی نے خفیہ فنڈ استعمال کیا اور رقمیں تقسیم کیں تو نواز شریف صاحب نے بھی اس سے خوب فائدہ اٹھایا۔ [حوالہ درکار] انہوں نے جنرل جیلانی کے ایماء اور فراہم کردہ سرمائے سے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا۔ اس کھلی دھاندلی کے ذریعے نواز شریف 1988ء کے انتخابات ميں دوبارہ وزيرِاعلٰی منتخِب ہوئے۔ [حوالہ درکار] ان کی اس مدت ميں مّری اور کہُوٹہ ميں زبردست تّرقی ہوئی۔

بطور وزیر اعظم

6 نومبر 1990ء کو نواز شريف نے اس وقت بطور منتخِب وزيرِاعظم حلف اُٹھايا جب ان کی انتخابی جماعت،اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990ء کے انتخابات ميں کاميابی حاصل کی۔ تاہم وہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور ان کو اس وقت کے صدر نے ان کو ان کے عہدے سے فارغ کر ديا۔ اگرچہ ملک کی عدالتِ اعظمٰی نے ايک آئينی مقدمے کے بعد انھيں دوبارہ ان کے عہدے پہ بحال تو کر ديا،ليکن ان کو جولائي 1993ء ميں صدر کے ساتھ اپنے عہدے سے استعفا دينا پڑا۔ ان کے زمانۂ وزارتِ اعظمٰی کے دوران میں، نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی گئيں۔ غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جيسے منصوبے شروع کيے گئے- سندھ کے بے زمین ہاريوں ميں زمينيں تقسیم کی گئیں۔ وسطی ایشیائی مسلم ممالک سے تعلقات مستحکم کیے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی۔ افغانستان کے بحران کو حل کرانے ميں مدد دی گئي اور مختلف افغان دھڑوں نے "معاہدۂ اسلام آباد" پہ دستخط کيے۔ ان کے دورِحکومت کی اہم خوبی، پریسلر ترمیم کے تحت نافذ کی گئيں امریکی پابندیوں کے باوجود معاشی ترقی کا حصول تھی۔ اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کے کی تعیناتی کی کوشش کی۔ فوج کا کردار قومی سیاست میں کم کرنے کی یہ دیانتدارانہ کوشش ان کے لیے آفت بن گئی اور ایک فوج بغاوت کے بعد ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔

جلاوطنی

فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو "طیارہ سازش کیس" کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ 2006ء میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوج حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست، 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔[10][11]

ایمرجنسی

تفصیلی مضمون ایمرجنسی کا نفاذ 2007ء

ایمرجنسی کے نفا ذ کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے پرویز مشرف پر دباؤ کے نتیجے میں 25 نومبر، 2007ء کو لاہور پہنچ گئے۔[12]

انتخابات 2013ء

2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ایف آئی آر

انقلاب مارچ کے دوران میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران میں شہید ہونے والے 14 افراد کے قتل اور 90 سے زائد کے شدید زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔[13]

نااہلی

نواز شریف پانامہ کیس کی سماعت کے بعد 28 جولائی 2017ء کو نااہل قرار پائے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Nawaz-Sharif — بنام: Nawaz Sharif — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Mittal نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. Syed Shoaib Hassan (12 مارچ2009)۔ "Profile: Nawaz Sharif"۔ BBC News۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اکتوبر 2012۔ 
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ BBC-1999_coup نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. Celia W. Dugger (14 اکتوبر 1999)۔ "Pakistan Calm After Coup; Leading General Gives No Clue About How He Will Rule"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اکتوبر 2012۔ 
  6. "Nawaz Sharif"۔ Encyclopædia Britannica on-line۔ 1 جون 2003۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2012۔ 
  7. ^ ا ب Anatol Lieven (2011)۔ Pakistan: A Hard Country۔ PublicAffairs۔ صفحہ 244۔ آئی ایس بی این 978-1-61039-021-7۔ 
  8. Muzamil Jaleel (6 جون 2013)۔ "As Nawaz Sharif becomes PM, Kashmir gets voice in Pakistan power circuit"۔ The Indian Express۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 جون 2013۔ 
  9. نواز شریف - گلوبل سکیورٹی
  10. روزنامہ نیشن، 24 اگست 2007ء، "They can come back"
  11. روزنامہ نیشن، 24 اگست 2007ء، "Friend turned foe"
  12. روزنامہ نیشن، 26 نومبر 2007ء، "نواز شریف کی واپسی"
  13. شریف برادران کے خلاف قتل کی ایف آئی آر

مزید مطالعہ و مآخذ

بیرونی روابط

سیاسی عہدے
ماقبل 
صادق حسین قریشی
وزیر اعلیٰ پنجاب
1985–1990
مابعد 
غلام حیدر وائیں
ماقبل 
غلام مصطفیٰ جتوئی
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
1990–1993
مابعد 
بلخ شیر مزاری
قائم مقام
ماقبل 
بلخ شیر مزاری
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
1993
مابعد 
معین الدین احمد قریشی
قائم مقام
ماقبل 
بینظیر بھٹو
قائد حزب اختلاف
1993–1996
مابعد 
بینظیر بھٹو
ماقبل 
معراج خالد
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
1997–1999
مابعد 
پرویز مشرف
بطور چیف ایگزیکٹیو پاکستان
ماقبل 
شاہد حامد
قائم مقام
وزیر دفاع پاکستان
1997–1999
مابعد 
پرویز مشرف
ماقبل 
سرتاج عزیز
وزیر خزانہ پاکستان
قائم مقام

1998
مابعد 
اسحاق ڈار
ماقبل 
میر ہزار خان کھوسو
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
2013–2017
مابعد 
شاہد خاقان عباسی
وزیر دفاع پاکستان
7 جون 2013–26 نومبر 2013
مابعد 
خواجہ محمد آصف
سیاسی جماعتوں کے عہدے
ماقبل 
فدا محمد خان
رہنما پاکستان مسلم لیگ-نواز
1993–1999
مابعد 
کلثوم نواز شریف
ماقبل 
شہباز شریف
رہنما پاکستان مسلم لیگ-نواز
2011–2017ء
مابعد 
شہباز شریف
موجودہ
The article is a derivative under the Creative Commons Attribution-ShareAlike License. A link to the original article can be found here and attribution parties here. By using this site, you agree to the Terms of Use. Gpedia Ⓡ is a registered trademark of the Cyberajah Pty Ltd.