نیوزی لینڈ

Jump to navigation Jump to search
  
نیوزی لینڈ
نیوزی لینڈ
پرچم
نیوزی لینڈ
نشان

NZL orthographic.svg 

ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 42°S 174°E / 42°S 174°E / -42; 174  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
رقبہ 268021.0 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت ویلنگٹن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان انگریزی،  ماوری زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 4885300 (30 جون 2018)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
77.89024 سال (1999)[2]
78.63659 سال (2000)[2]
78.69268 سال (2001)[2]
78.84634 سال (2002)[2]
79.14634 سال (2003)[2]
79.54878 سال (2004)[2]
79.85122 سال (2005)[2]
80.04878 سال (2006)[2]
80.15122 سال (2007)[2]
80.35122 سال (2008)[2]
80.70244 سال (2009)[2]
80.90488 سال (2011)[2]
81.1561 سال (2012)[2]
81.40732 سال (2013)[2]
81.40488 سال (2014)[2]
81.45683 سال (2015)[2]
81.61244 سال (2016)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی آئینی بادشاہت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں basic form of government (P122) ویکی ڈیٹا پر
اعلی ترین منصب ایلزبتھ دوم (6 فروری 1952–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
وزیر اعظم نیوزی لینڈ  جاسنڈا آرڈن (26 اکتوبر 2017–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 26 ستمبر 1907  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (24 اکتوبر 1945–)
دولت مشترکہ ممالک
انجمن اقتصادی تعاون و ترقی
عالمی تجارتی ادارہ
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (31 اگست 1961–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (1 اکتوبر 1974–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (31 اگست 1961–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (22 اپریل 2008–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (2 مئی 1980–)
ایشیائی ترقیاتی بینک (1966–)
انٹرپول[3]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[4]
بین الاقوامی آب نگاری تنظیم[5]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (4 نومبر 1946–)[6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
آسٹریلیا (Australia–New Zealand border)[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
سفارتی تعلقات
کینیڈا (Canada–New Zealand relations)
اطالیہ
جرمنی (Germany–New Zealand Relations)
نیووے
آسٹریلیا (Australia–New Zealand relations)
سعودی عرب
یوکرین (New Zealand–Ukraine relations)
سربیا
مملکت متحدہ (New Zealand–United Kingdom relations)
ناروے (New Zealand–Norway relations)
ہسپانیہ (New Zealand–Spain relations)
سنگاپور (New Zealand–Singapore relations)
ترکی (New Zealand–Turkey relations)
ڈنمارک (Denmark–New Zealand relations)
فرانس (France–New Zealand relations)
ملائیشیا (Malaysia–New Zealand relations)
انڈونیشیا (Indonesia–New Zealand relations)
برونائی دار السلام (Brunei–New Zealand relations)
پاکستان (New Zealand–Pakistan relations)
تائیوان (New Zealand–Taiwan relations)
ریاستہائے متحدہ امریکا (New Zealand–United States relations)
سویڈن (New Zealand–Sweden relations)
روس (New Zealand–Russia relations)
شمالی کوریا (New Zealand–North Korea relations)
عوامی جمہوریہ چین (China–New Zealand relations)
فجی (Fiji–New Zealand relations)
یونان (Greece–New Zealand relations)
بھارت (India–New Zealand relations)
جاپان (Japan–New Zealand relations)
بنگلہ دیش (Bangladesh–New Zealand relations)
مصر (Egypt–New Zealand relations)
میکسیکو (Mexico-New Zealand relations)
جارجیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
205852838254.712 امریکی ڈالر (2017)[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 15861076054 امریکی ڈالر (2014)[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.793 (1980)
0.805 (1985)
0.820 (1990)[10]
0.855 (1995)
0.874 (2000)[10]
0.895 (2005)
0.905 (2010)[10]
0.907 (2011)[10]
0.909 (2012)[10]
0.911 (2013)[10]
0.914 (2014)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 6 فیصد (2014)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+13:00 (روشنیروز بچتی وقت)
متناسق عالمی وقت+12:00 (معیاری وقت)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت بائیں[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم nz.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 NZ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +64  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

نیوزی لینڈ جنوب مغربی بحر الکاہل کی ایک خود مختار ریاست ہے۔ یہ ایک جزیرہ ملک ہے۔جغرافیائی حساب سے یہ ملک دو بڑے زمینی ٹکڑوں پر مشتمل ہے؛ شمالی جزیرہ اور جنوبی جزیرہ۔ ان کے علاوہ 600 دیگر جزائر ہیں۔ نیوزی لینڈ بحیرہ تسمان میں آسٹریلیا سے 2000 کلومیٹر (1200 میل) مشرق میں واقع ہے۔ اسی طرح ٹونگا، فجی اور نیو کیلیڈونیا کے بحر الکاحل کے جزائری علاقوں سے 1000 کلومیٹر (600 میل) جنوب میں ہے۔انسانوں کے ذریعے آباد کیے جانے والے جزائر میں نیوزی لینڈ کا مقام آخری ہے۔ یعنی یہ ان جزئر میں سے جسے انسانوں نے سب سے آخری میں آباد کیا ہے۔ انسانوں کی آبادی سے قبل نیوزی لینڈ ایک نا معلوم تنہا جزیرہ تھا جو مختلف جانور، پیڑ پودوں اور فنگی فنگس کا ایک خوشنما علاقہ تھا۔ ملک کی مختلف النوع ٹوپوگرافی اور پہاڑ کی نوکیلی چوٹیوں کی ذمہ دار وہاں موجود ٹیک ٹونک اپ لفٹ اور متعدد جوالہ مکھیاں ہیں۔ نیوزی لینڈ کا دار الحکومت ویلنگٹن ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی والا شہر آکلینڈ ہے۔

1250ء اور 1200ء کے درمیان میں اس جزیرہ میں پولینیشین آباد ہوئے اور اس کا نام نیوزی لینڈ رکھا۔ انہوں نے یہاں ماؤری تہذیب کو فروغ دیا۔1642ء میں ولندیزی سیاح ابیل تسمن وہ پہلا یورپی باشندہ تھا جس نے نیوزی لینڈ کی زمین پر قدم رکھا۔ زمین پر قدم رکھا۔ 1840ء میں مملکت متحدہ کے نمائندوں نے ماؤری سربراہوں کے ساتھ ویٹنگی معاہدہ پر دستخط کیے جس کی رو سے نیوزی لینڈ برطانیہ کے زیر اختیار آگیا۔ کیے جس کی رو سے نیوزی لینڈ برطانیہ کے زیر اختیار آگیا۔ 1841ء میں نیوزی لینڈ سلطنت برطانیہ کی ایک کالونی بن گیا اور 1907ء میں اسے ڈومینین نیوزی لینڈ بنا دیا گیا؛ 1947ء میں اسے خود مختار ریاست کو درجہ مل گیا اور آزادی ملی مگر سربراہ ریاست برطانوی لوگ ہی بنے رہے۔ فی الحال نیوزی لینڈ کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ یورپی نسل پر مشتمل ہے۔ ان کی کل تعداد 4.9 ملین ہے۔ ملک کی سب سے بڑی اقلیت ماؤری قوم ہے جو اب ختم ہونے کےکگار پر ہے۔ پر ہے۔ ماؤری کے بعد دیگر اقلیتوں میں ایشیائی قوم اور بحرالکاحل کے جزیروں کے لوگ ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ثقافت قدیم ماؤری اور جدید برطانوی آبادیات کی دین ہے۔ بعد میں دیگر علاقوں کے پناہ گزینوں نے بھی یہاں کی ثقافت پراپنا اثر ڈالا ہے۔ یہاں کی سرکاری زبانوں میں انگریزی زبان، ماوری زبان اور نیوزی لینڈ کی اشارتی زبان شامل ہے۔ البتہ انگریزی زبان کا غلبہ ہے۔ نیوزی لینڈ ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ دنیا بھر کی مختلف قومی کارکردگیوں کے مووزنوں میں نیوزی لینڈ کا درجہ کافی بلند ہے مثلاً معیار زندگی، صحت، تعلیم، شہری آزادیوں کا تحفظ اور اقتصادی آزادی وغیرہ۔ 1980ء کی دہائی میں نیوزی لینڈ بڑای اقتصادی تبدیلی آئی جس سے نیوزی لینڈ کی معیشت تحفظ پسند تبدیل ہو کر آزاد تجارتی معیشت بن گئی۔ نیوزی لینڈ کی معیشت کا بڑا حصہ سروس سیکٹر ہے۔ اس کے بعد صنعت نیوزی لینڈ میں کھیتی باڑی کا نمبر آتا ہے۔ بین الاقوامی سیاحت نیوزی لینڈ کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ نیوزی لینڈ کی مقننہ وہاں کا منتخب یک ایوانیت پارلیمان ہے جبکہ کابینہ سیاسی اور اختیارات کی حامل ہے۔ کابینہ کی سربراہ وزیر اعظم نیوزی لینڈ ہے۔ سربراہ ملک ایلزبتھ دوم ہے۔ ان کی نمائندگی گورنر جنرل کرتا ہے۔حکومتی طور پر نیوزی لینڈ علاقائی کونسل پر مشتمل ہے۔ علاقائی کونسل پر مشتمل ہے۔ پھر ان میں 67 چھوٹی چھوٹی علاقائی اتھارٹیاں ہیں۔ نیوزی لینڈ قلمرو میں ڈوکیلاؤ (ایک منحصر علاقہجزائر کک، نیووے، راس انحصار بھی شامل ہیں۔ نیو وے ایک خود مختار ریاست ہے جس کا الحاق نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے جبکہ راس انحصار نیوزی انٹارکٹیکا کا وہ علاقہ ہے جس پر نیوزی لینڈ اپنا دعوی کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ دولت مشترکہ ممالک کا رکن ہے، اسی کے ساتھ انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم، ایشیائی بحرالکاحلی اقتصادی تعاون اور جزائر بحل الکاحلی فورم کا بھی رکن ہے۔

اشتقاقیات

نیدرلینڈز کے سیاح ابیل تسمن نے 1642ء میں نیوزی لینڈ کی دریافت کی اور اسے سٹیٹن لینڈ نام دیا۔ چونکہ نیدرلینڈز کی پارلیمان کو اٹیٹس جنرل کہتے ہیں اسی لیے تسمن نے جزیرہ کو سٹیٹن لینڈ کا نام دیا اور کہا “یہ ممکن ہے کہ اس جزیرہ کو سٹیٹن لینڈ میں شامل کر لیا جائے مگر یہ یقینی نہیں ہے۔“[13] ان کا اشارہ شمالی امریکا اور جنوبی امریکا کے ہم نام ہونے کی طرف تھا۔ واضح ہو کہ جنوبی افریقا کی دریافت جیکب لی مائرے نے 1616ء میں کی تھی۔[14][15] 1645ء میں ڈچ نقشہ نگاروں نے جزیرہ کا نام بدل کر نیدرلینڈز کے صوبہ زیلانت کے نام پر نووا زیلینڈیا کر دیا۔[16][17] بعد ازاں برطانوی سیاح جیمز کک نے اس نام پر انگریزی رنگ چڑھاکر نیوزی لینڈ کر دیا۔[18] نیوزی لینڈ کا موجودہ ماؤری زبانی نام آوٹیورا (Aotearoa) سنیےi/ˌt[unsupported input][unsupported input]ə/) ہے۔ اس کے معنی “طویل سفید بادلوں کی زمین“ ہے[19] یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا ماؤری زبان کا یہ نام پورے نیوزی لینڈ کے لیے استعمال ہوتا تحا یا محض شمالی جزیرہ کے لیے۔[20] ابتدائی یورپیوں نے نقشہ میں شمالی جزیرہ، وسطی جزیرہ اور جنوبی جزیرہ نام رکھا تھا۔[21] 1830ء سے نقشوں میں دو بڑے جزیروں کو شمالی اور جنوبی جزیرہ کہا جانے لگا اور 1907ء میں اس روایت کو قبول کر لیا گیا۔[22] 2009ء میں نیوزی لینڈ جیوگرافک بورڈ نے دریافت کیا کہ شمالی اور جنوبی جزیروں کے نام کبھی متعین نہیں کیے گئے ہیں البتہ 2013ء میں باقاعدہ نام دیا گیا۔ شمالی جزیرہ کا نام ٹی آئی کا اے ماؤئی (Te Ika-a-Māui) اور جنوبی جزیرہ کا نام ٹی وائی پونامو (Te Waipounamu) رکھا گیا۔ دونوں جزیروں کے آیا انگریزی یا ماؤری یا دونوں ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

تاریخ

انسانوں نے جن زمین کے جن خطوں کو سب سے آخر میں بسایا ہے نیوزی لینڈ ان میں سے ایک ہے۔ ڈیفوریسٹیشن کی ریڈیو کاربن تاریخ نگاری کے ثبوت اور ماؤری آبادی کے مائیٹوکونڈرائل ڈی این اے [23] کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں پہلی آبادی 1250ء تا 1300ء کے دوران میں پولینیشین کے لوگوں نے بسائی تھی۔[24][25] اس کے لیے انہوں نے بحر الکاحل کے جزائر کا ایک طویل سفر کیا تھا اور سفر در سفر کے بعد ان کا نزول نیوزی لینڈ میں ہوا۔[26] صدیوں وہ وہاں رہے اور ان کی ایک ثقافت بنی جسے ماؤری ثقافت کہا جاتا ہے۔ماؤری کی کل آبادی دو ہوا۔[27] صدیوں وہ وہاں رہے اور ان کی ایک ثقافت وہاں بنی جسے ماؤری ثقافت کہا جاتا ہے۔ماؤری کی کل آبادی دو گروہ آئی وی اور ہاپو میں منقسم تھی جو کبھی ایک دوسرے کا تعاون کرتے تھے، کبھی ایک دوسرے سے مقابلے کرتے اور ضرورت پڑے پر ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما بھی رہتے تھے۔[28] پھر ان میں سے ایک گروہ ویکوہو (موجودہ شاثام جزیرہ کی طرف ہجرت کرگیا جہاں انہوں نے اپنی الگ پہچان بنائی اور ان کی ثقافت موریوری تہذیب کہلائی۔[29][30] 1835ء یا 1862ء کے دوران موریوری کی آبادی تقریباً ختم ہو گئی کیونکہ تاراناکی ماؤری قوم نے ان پر حملہ کر دیا اور 1830ء کی دہائی میں سب کو غلام بنا لیا۔ باقی رہی سہی کسر یورپ کی بیماریوں نے پوری کردی۔ حتی کہ 1862ء میں محض 101 مویوری قوم کے لوگ بچے تھے۔ 1933ء میں یہ دعوی کیا گیا کہ اب کوئی خالص مویوری نسل کا فرد نہیں بچا ہے۔[31] فرانسیسی لوگوں کئی اکارورا میں زمین خریدنے اور نیوزی لینڈ کمپنی ویلنگٹن [32] میں آزاد بستی بسانے کی کوششوں کے جواب میں ہوبسن نے 21 مئی 1840ء کو مکمل نیوزی لینڈ پر برطانوی حکمرانی کا اعلان کر دیا حالانکہ ابھی ماؤری لوگوں کو ماہدہ پر دستخط کرنا باقی تھا۔[33] برطانوی تسلط کے اعلان اور معاہدہ کے بعد نیوزی لینڈ میں خصوصا مملکت متحدہ اور عمومی دیگر ممالک سے آنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔[34]

Map depicts the western and northern coast of Australia (labelled "Nova Hollandia")، Tasmania ("Van Diemen's Land") and part of New Zealand's North Island (labelled "Nova Zeelandia")۔
An early map of آسٹریلیشیا during the Golden Age of Dutch exploration (ت 1590s – تقریباً 1720s)۔ Based on a chart by Joan Blaeu، تقریباً 1644۔
An engraving of a sketched coastline on white background
Map of the New Zealand coastline as Cook charted it on his first visit in 1769–70. The track of the Endeavour is also shown.

1642ء وہ سال تھا جب نیوزی لینڈ کی سرزمین پر کسی یورپی باشندہ نے قدم تھا۔ ڈچ سیاح ایبل تسمن اور اس کی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے جزائر کو دریافت کیا۔[35] جیسے ہی جزیرہ پر پہونچے ماؤری قوم نے ان پر حملہ کر دیا اور اس جھگڑے میں ایبل کے چار ساتھی مارے گئے جبکہ ایک ماؤری کی موت ہوئی۔ [36] پھر 1769ء تک کسی یورپی نے ادھر توجہ نہیں کی۔ آخر کار برطانوی سیاح جیمز کک نیوزی لینڈ کے تقریباً تمام ساحلوں کا نقشہ تیار کیا۔[37] کک کے بعد متعدد یورپی اور شمال امریکی سیاحوں نے نیوزی لینڈ کا سفر کیا۔ شمال امریکی سیاحوں نے نیوزی لینڈ کا سفر کیا۔ یہ لوگ سیل، وہیل کا شکار کرتے ہوئے وہاں پہونچے تھے۔ کچھ لوگوں نے تجارتی اسفار بھی روع کردئے تھے۔ یہ تاجر یورپی کھانے، دھات کے اوزار، ہتھیار ، گھر بنانے میں استعمال ہونے والی لکڑی (ٹمبر)، ماؤری کھانےاور پانی کی تجارت کیا کرتے تھے۔[38] آلو اور تفنگ قدیم کی نیوزی لینڈ میں آمد کے بعد وہاں کی کھیتی باڑی اور جنگ میں ایک خاص ترقی دیکھنے کو ملی۔ آلو ایک قابل بھروسا غذا تھی جس سے جسم کو تقویت ملی اور فوج کے زیادہ دنوں کے کھانے کا انتطام بھی ہو گیا۔[39] جس کی وجہ سے فوج طاقتور ہو گئی۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ 1801ءتا 1840ء کے دوران میں علاقائی قبائلوں کے مابین 600 جنگیں لڑی گئیں جن میں 30 ہزار سے 40 ہزار کے آس پاس ماؤری مارے گئے۔[40] 19ویں صدی سے مسیحی مبلغین نے نیوزی لینڈ میں مذہب کی تبلیغ کرنا شروع کر دی جس سے ماؤری لوگ عیسائی مذہب اپنانے لگے۔[41] اسی صدی میں یورپ نے نیوزی لینڈ میں ایک نئی بیماری متعارف کرادی جس سے تقریباً 40 فیصد ماؤری ماوت کے شکار ہو گئے۔[42] 1788ء میں آرتھر فلپ نے نیو ساؤتھ ویلز کے گورنری کا عہدہ سنبھالا جنہوں نے اپنی کمشنری میں نیوزی لینڈ کو بھی شامل کر لیا۔[43] 1832ء میں شمالی ماؤری کی دوخواست پر برطانوی حکومت نے جیمز بسبی کو نیوزی لینڈ کا صدر مقرر کیا۔ 1835ء میں چارلس دی تھیری نے اعلان کیا کہ وہ نیوزی لینڈ میں نئی اباد کاری کریں گے جس کے بعد نیوزی لینڈ کے متحدہ قبائل نے مملکت متحدہ کے بادشاہ ولیم چہارم ]]اعلان آزادی]] بھیجا تاکہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ اسی افرا تفری کے زمانے میں نیوزی لینڈ کمپنی (جس نے پہلے ہی ایک جہاز روانہ کیا تھا تاکہ ماؤری سے زمین خریدی جا سکے) اعلان ازادی کی دھندلی قانونی چارہ جوئی نے کولونیل آفس کو ابھارا کہ کپتان ولیم ہوبسن کو مملکت متحدہ کی حاکمیت کا دعوی کرنے اور ماؤریوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کی خاطر بھیجا جائے۔[44] 6 فروری 1840ء کو جزائر خلیج میں ویٹنگی معاہدہ پر پہلی مرتبہ دستخط کیا گیا۔[45] 1 جولائی 1841ء تک نیو ساوتھ ویلز کا حصہ رہنے والا نیوزی لینڈ ایک تاج نوآبادی والا ملک بن گیا۔[46] 1852ء میں نیوزی لینڈ کو پہلی نمائدہ حکومت ملی اور 1854ء میں پارلیمان کا پہلا اجلاس ہوا۔[47] 1856ء میں نیوزی لینڈ میں خود مختار حکومت بن گئی اور قبائلی پالیسی کے علاوہ دیگر تمام علاقائی پالیسی اور معاملات کو نیوزی لینڈ کی نئی حکومت خود حل کرنے لگی۔[48] 1860ء کی دہائی میں قبائلی پالیسی پر بھی اختیار مل گیا۔ یہ خدشہ ظاہر ہو رہا تھا کہ جنوبی جزیرہ کہیں ایک الگ کالونی نہ ہوجائے لہذا وزیر اعظم الفرڈ ڈومیٹ نے دار الحکومت کو آکلینڈ سے قریب کے علاقہ آبنائے کک میں منتقل کرنے ایک ریزولوشن متعارف کرایا۔[49] ویلنگٹن کو دار الحکومت بنایا گیا کیونکہ وہ دونوں جزیروں کے بیچ میں ہے۔ 1865ء میں وہاں پارلیمان کا پہلا اجلاس ہوا۔ چانکہ مہاجرین کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی لہذا 1860ء اور 1870ء کی دہائی جنگوں کا آغاز ہوا جس کا سبب زمین کی ملکیت تھا۔ نجیتا ماوری لوگوں کی بہت سی زمینیں قبضہ کرلی گئیں۔ 1891ء میں لبرل پارٹی بحیثیت پہلی منظم پارٹی کی شکل میں حکومت میں آئی۔[50] لبرل حکومت میں ریچارڈ سیڈن کو وزارت عظمی کی کرسی بہت دنوں تک ملی [51] اور انہوں نے مشعاسی اور سماجی اصلاح کے لیے کئی سارے قوانین بنائے۔ 1893ء میں نیوزی لینڈ دنیا کا پہلا ایسا ملک بنا جہاں خواتین کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی آزادی ملی۔[52] 1894ء میں صنعتی معاہدہ اور ثالثی ایکٹ، 1894ء پاس کیا گیا جس کی رو سے مزدوروں کی یونین اور آجر کے درمیان میں ایک ثالثی کا ہونا ضروری قرار دیا گیا۔[53] 1907ء میں نیوزی لینڈ پارلیمان کی درخواست پر بادشاہ ایڈورڈ ہفتم نے نیوزی لینڈ کو ڈومینین نیوزی لینڈ کا درجہ دیا، [54] مگر اب بھی یہ برطانوی سلطنت کا حصہ تھا البتہ حکومت اب اپنی ہو گئی تھی۔[55] 1947ء میں نیوزی لینڈ کو برطانیہ سے مکمل آزاد کر دیا گیا اور اب برطانوی پارلیمان کو نیوزی لینڈ کے لیے اس سے مشورہ کیے بغیر قانون بنانے کا اختیار ختم ہو گیا۔[56] 20ویں صدی کے اوائل میں نیوزی لینڈ عالمی معاملات میں حصہ لینے لگا تھا اور پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا جس کی وجہ سے اس ے کساد عظیم کا سامنا کرنا پرا۔2572 اس کساد کی وجہ سے نیوزی لینڈ میں پہلی لیبر حکومت بنی اور فلاحی ریاست اور تحفظی معیشت کا انعقاد ہوا۔[57]دوسری جنگ عظیم کے بعد نیوزی لینڈ میں خوشحالی کا دور شروع ہوا [58] اور ماؤری اپنی جنگلی قبائلی زندگی کو چھوڑ کر شہر کی طرف کام کاج کی تلاش میں جانے لگے۔ اسی دوران میں ماؤری تحریک کا آغاز ہوا جس کا مقصد یورپ کے بڑھتے رجحان کی تنقید کرنا، ماؤری ثقافت کا تحفظ اور ویٹنگ معاہدہ کی یاد دلانا تھا۔[59] 1975ء میں معاہدہ کی شقوں پر غور کرنے کے لیے ویٹنگ ٹریبیونل بنایا گیا جس کے بعد 1985ء میں تاریخی شکایتوں کی تحقیق کا راستہ کھل گیا۔[60] حکومت نے کئی آئی وی لوگوں کے ساتھ ان شکایتوں کے ازالہ کے لیے بات چیت کی [61] ماؤری کے فری شور اور سی بیڈ کے دعووں کو 2000ء میں مئی تنازعات کے بعد قبول کر لیا گیا۔[62][63]

حکومت اور سیاست

نیوزی لینڈ میں آئینی بادشاہت ہے اور وہاں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے۔[64] البتہ نیوزی کا آئین تحریری شکل میں موجود نہیں ہے۔[65] نیوزی لینڈ کی رانی ہونے کی حیثیت سے ایلزبتھ دوم سربراہ ریاست ہے۔[66] مہارانی کی نمائندگی گورنر جنرل نیوزی لینڈ کرتا ہے جسے رانی وزیر اعظم نیوزی لینڈ کی سفارش پر مقرر کرتی ہے۔[67] رانی کی طرف سے گورنر جنرل شاہی اختیارات کا استعمال کرتا ہے جیسے نا انصافی والے فیصلے پر نظر ثانی کرنا، وزرا، سفیروں اور دیگر اہم پبلک افسران کی تقرری وغیرہ۔[68] شاذ و نادر ہی سہی مگر اسے پارلیمان کو تحیل کرنے کا اختیار بھی ہے۔[69] رانی اور گورنل جنرل کے اختیارات دستوری طور محدود ہیں اور وزرا کے مشوروں کے بغیر وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔[70] پارلیمان نیوزی لینڈ مقننہ کا کردار ادا کرتی ہے۔ پارلیمان رانی اور ارکان پارلیمان پر مشتمل ہے۔[71] 1950ء تک اس میں ایوان بالا، لیجسلیچو کونسل بھی شامل تھےمگر اب انہیں کالعدم کر دیا گیا ہے۔[72] بل آف رائٹس، 1689ء کے تحت پارلیمان کو تاج پر فوقیت حاصل ہے اور نیوزی لینڈ میں اسے اب قانون بنا دیا گیا ہے۔[73] انتخابات کے ذریعے ارکان پارلیمان کو چنا جاتا ہے اور کسی پارٹی یا پارٹیوں کے اتحاد کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اگر کسی کو اکثریت نہ ملی ہو تو اقلیتی پارٹی بھی حکومت بنا سکتی ہے اگر اسے اعتماد اور رسد کا ووٹ مل جائے۔[74] وزیر اعظم حکمراں پارٹی یا اتحاد کی طرف سے پارلیمان کا رہنما ہوتا ہے اور اس کے مشورے پر گورنر جنرل کا تقرر ہوتا ہے۔[75] کابینہ متعدد وزرا پر مشتمل ہے اور اس کا رہنما خود وزیر اعظم ہے۔ کابینہ سب سے بڑی قانون ساز اکائی ہے اور حکومت کے اہم فیصلے اور امور کی ذمہ دار ہے۔[76] کابینہ کے ارکان مجموعی طور پر کسی فیصلہ پر متفق ہوتے ہیں [77] پس وہ مجموعی طور پر ہی ذامہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔[78] ہر تین سال کے وقفہ سے نیوزی لینڈ کے عام انتخابات ہوتے ہیں۔[79] 1853ء تا 1993ء تک تقریباً تمام انتخابات فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ ووٹنگ سے ہوئے ہیں۔[80] 1996ء کے انتخابات میں متناسب نمائندگی کی ایک قسم مکسڈ ممبر سسٹم کا استعمال کیا گیا۔[81] اس نظام کت تحت ہر ووٹر کو دو ووٹ ڈالنے کا حق ہے؛ ایک ووٹ امیدوار کو اور دوسرا پارٹی کو۔ 2004ء کے انتخابات میں کل 71 انتخابی حلقے تھے جن میں 7 صرف ماوری کے لیے مخصوص تھے۔ باقی 49 سیٹیں تفویض کر دی گئی تھیں تاکہ پارلیمان میں پارٹی ووٹ کی نمائندگی ہو اور پارٹی ہر حلقہ میں کم از کم 5 فیصد ووٹ ضرور حاصل کرے۔[82] 1930ء میں انتخابات کے آغاز سے ہی صرف دو پارٹیوں نیوزی لینڈ نیشنل پارٹی اور نیوزی لینڈ لیبر پارٹی کا غلبہ رہا ہے۔[83] مارچ 2005ء تا اگست 2006ء کے درمیان میں نیوزی لینڈ دنیا کا واحد ملک تھا جہاں تمام اعلیٰ عہدوں -سربراہ ریاست، گورنر جنرل، وزیر اعظم، اسپیکر اور چیف جسٹس- پر خواتین فائز تھیں۔ موجودہ وزیر اعظم (مارچ 2019ء) جیسندا آرڈرین ہیں۔ وہ 26 اکتوبر 2017ء سے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم ہیں۔ وہ ملک کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔ عدلیہ نیوزی لینڈ کے سربراہی چیف جسٹس کرتے ہیں۔[84] عدلیہ کے ڈھانچہ میں سپریم کورٹ، کورٹ آف اپیل، ہائی کورٹ اور سب آرڈی نیٹ کورٹ شامل ہیں۔[85] عدلیہ کی آزادی برقرار رہے اس کے لیے تما ججوں اور عدلیہ کے افسران کا تقرر غیر سیاسی ہوتا ہےاور ان کی میعادوں کے قوانین بہت سخت ہیں۔[86] اس سے ججوں کو پارلیمان کے بنائے قانون کے مطابق فیصلہ دینے میں آسانی ہوتی ہے اور ان کے فیصلے کسی خارجی امور سے متاثر نہیں ہوتے ہیں۔[87]

نیوزی لینڈ کو دنیا بھر میں سب سے مستحکم اور اچھی حکومت کے لیے جانا جاتا ہے۔[88] 2017ء میں جمہوری اداروں کی طاقت کی فہرست میں نیوزی لینڈ کا مقام چوتھا تھا وہیں بد عنوان کی کمی میں یہ ملک سرفہرست تھا۔ 2017ء میں ریاستہائے متحدہ امریکا کی ریاست آف اسٹیٹ نے ایک رپورٹ حقوق انسانی رپورٹ میں کہا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت عموما افراد کی سماجی حالت کی فکر کرتی ہے لیکن ماؤری آبادی کی حالت اب بھی قدرے تشویشناک ہے۔[89] دنیا بھر میں عوام کی سیاست میں دلچسپی اور مشارکت کے معاملے میں نیوزی لینڈ کا مقام اول تھاگزشتہ انتخابات میں ووٹ کا فیصد 77 تھا جبکہ عالمی فیصد 69 ہے۔[90]

بین الاقوامی تعلقات اور فوج

انتدائی کولونیل نیوزی لینڈ میں برطانوی حکومت کو بین الاقوامی تجارت کرنے کی آزادی دی گئی تھی اور یہ کہ خارجی تعلقات کی ذمہدار بھی حکومت ہی ہوگی۔ 1923ء اور 1926ء کے امپیریل کانفرنس میں طے ہوا کہ ان نیوزی لینڈ کو خود اپنے سیاسی معاملات طے کرنے چاہیے اور پہلا سیاسی معاہدہ 1928ء میں جاپان کے ساتھ ہوا۔ 1928ء میں نیوزی لینڈ نے برطانیہ کے ساتھ اتحاد کر لیا اور جرمنی سے جنگ کا اعلان کر دیا۔ وقت کے وزیر اعظم مائیکل جوزف ساویج نے کہا “جہاں وہ جائے گی، ہم بھی جائیں گے، جہاں وہ رکے گی ہم بھی رکیں گے۔[91]

1951ء میں مملکت متحدہ کی توجہ یورپ پر مرکوز ہو گئی [92] اور ادھر نے نیوزی لینڈ نے آسٹریلیا اور امریکا کے ساتھ مل کر انزوس (ANZUS) معاہدہ پر دستخط کر دیا۔[93] ویتنام جنگ کے بعد نیوزی لینڈ پر امریکا پکڑ ڈھیلی پڑ گئی،[94] امریکا نے انزوس کو منسوخ کر دیا لیکن اس کے بادجود نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے انزوس کے معاہدے کے پابند رہے اور تاریخی روایت پر عمل پیرا رہے۔[95] دونوں ملکوں کے مابین قریبی سیاسی تعلاقت برقرار رہے اور تجارت و سیاحت کی راہیں ہموار کی گئیں۔ اور دونوں ملکوں کے باشندوں کے ایک دوسرے کے ملک میں جانے، گھومنے اور تجارت کرنے کی بنا کسی پابندی مکمل آزادی دی گئی۔[96] 2013ء میں 650,000 نیوزی لینڈ (کل آبادی کا 15 فیصد )کے باشندے آسٹریلیا میں مقیم تھے۔و101

بحرالکاحل کے جزائر پر نیوزی لینڈ کی مضبوط پکڑ ہے اور وہ ان ممالک میں امداد بھیجتا رہتا ہے۔ ان ملکوں سے لوگ اکثر نیوزی لینڈ کا سفر کرتے رہتے ہیں اور پناہ حاصل کرتے ہیں۔[97] ان ملکوں سے وہاں نوکری کرنے بھی لوگ خوب جاتے ہیں۔ ساموان کوٹا اسکیم 1970ء اور پیسیفک اکسیس کیٹیگری 2002ء کے تحت بالترتیب 11000 ساموانی اور 750 دیگر افراد نے ہجرت کر کے نیوزی لینڈ کی مستقل شہریت حاصل کی۔ 2007ء اور 2009ء میں وقتی نوکری اسکیم لانچ کی گئی جس کے تحت تقریباً 8000 بحرالکاحل کے جزائر کے باشندوں کو نوکری دی گئی۔[98] نیوزیلینڈ پیسیفک آئی لینڈ فورم، پیسیفک اکانومک کو اوپوریشن اور جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم اور علاقائی فورم جیسے مشرقی ایشیا سمٹ کا رکن ہے۔[99] نیوزی لینڈ اقوام متحدہ، دولت مشترکہ ممالک [100]، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی و016و اور فائیو پاور ڈیفینس ارینجمینٹ کا بھی رکن ہے۔[101] نیوزی لینڈ کی مسلح افواج نیوزی لینڈ آرمی، رایل نیوزی لینڈ ائیر فورس اور رایل نیوزی لینڈ نیوی پر مشتمل ہے۔[102]

چونکہ نیوزی لینڈ پر براہ راست حملہ کے امکانات بہت ہی کم ہیں لہذا نیوزی لینڈ کی قومی سلامتی فوج اوسط درجہ کی ہی ہے۔[103] البتہ نیوزی لینڈ کی فوج کو دنیا بھر میں ایک مقام حاصل ہے۔ ملک نے دونوں عالمی جنگوں میں حصہ لیا اور جنگ گیلی پولی، کریٹ [104] دوسری جنگ العلمين [105] اور جنگ مونٹی کاسینو میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔[106] خصوصا جنگ گیلی پولی سے نیوزی لینڈ کو اہم پہچان ملی۔[107][108] اور آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات ہموار کرنے اور اسے مضبوط کرنے میں مدد ملی۔[109]

ویتنام اور دو عالمی جنگوں کے علاوہ نیوزی لینڈ نے دوسری بویری جنگ، [110] کوریا کی جنگ ، ملاین ایمرجنسی [111]، دوسری خلیجی جنگ اور افغانستان کی جنگوں میں بھی شرکت کی۔ جنگ میں براہ راست شرکت کرنے کے علاوہ نیوزی لینڈ نے قبرص، صومالیہ، بوسنیا، سونز بحران، انگولہ، کمبوڈیا، ایران عراق سرحد، بوگاینویل مہم، مشرقی تیمور اور جزائر سلیمان کو فوجی تعاون دیا۔[112]

علاقائی حکومت اور خارجی خطے

ابتدائی یورپیوں نے نیوزی لینڈ کو صوبوں میں تقسیم کیا تھا اور جنہیں ایک حد تک خود مختاری حاصل تھی۔[113] لیکن 1876ء میں ملک کو مضبوط کرنے کے لیے چند اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا جن کے نفاذ کے لیے صوبوں کو متحد کرنا اور مرکزی نظام سے جوڑنا ضروری تھا۔ لہذا ریلوے، تعلیم، زمین کی خرید و فروخت اور دیگر پالیسیوں کو بہتر بنانے کی خاطر تمام صوبہ جات مرکزی نظام سے جوڑ دیا گیا۔[113][114] تاہم اب ان صوبوں کو علاقائی چھٹیوں اور کھیل کے لیے یاد رکھا جاتا ہے۔کے لیے یاد رکھا جاتا ہے۔[[[115][116] مرکزی حکومت نے کئی علاقوں کو شناخت کیا اور کونسل کے ذریعے وہاں حکومت کا نظام چلایا۔ [113][117] حکومتی ڈھانچہ میں تبدیلی کی گئی اور اور دو سطحی ڈھانچہ بنایا گیا۔ [118] 1975ء میں 249 میونسی پالیٹی تھی جنہیں مختصر کر کے 67 خطوں اور 11 علاقائی کونسلوں میں منقسم کر دیا گیا۔ [119] نیوزی لینڈ 16 دولت مشترکہ قلمرو [120] and the انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (OECD)،[121] میں سے ایک ہے اور اس کی سلطنت ان تمام علاقوں پر نیوزیلینڈ کی مہارانی کا راج چلتا ہے۔ ان میں نیووے اور جزائر کک خود مختار صوبے ہیں جن کا نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد الحاق ہے۔[122][123] نیوزی لینڈ کا پارلیمان ان صوبوں کے لیے کوئی قانون منظور نہیں کرسکتا ہے لیکن خارجی امور میں ان کی جانب سے فیصلہ لے سکتا ہے۔

ماحول

جغرافیہ

نیوزی لینڈ آبی نصف کرہ کے مرکز کے قریب واقع ہے اور دو بڑے جزیروں اور کئی چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے۔ دو بڑے جزیرے شمالی جزیرہ یا e Ika-a-Māui, اور جنوبی جزیرہ یا e Waipounamu ہیں۔ دونوں ے درمیان میں ابنائے کک واقع ہے جس کی سب سے کم چوڑائی 22 کلومیٹر ہے[124] ان دو جزائر کے علاوہ پانچ اور بڑے جزیرے ہیں۔ نیوزی لینڈ جغرافیائی طور پر طویل اور سکڑا ہے۔ اس کی لمبائی (over 1,600 کلومیٹر (990 میل) کلومیٹر اور چوڑائی 400 کلومیٹر (250 میل)) ہے۔[125] کل 15,000 کلومیٹر (9,300 میل) ساحل ہے اور خشکی کا رقبہ 268,000 کلومربع میٹر (2.8847279917×1012 فٹ مربع) ہے۔ چونکہ اس کے جزائر باقی ملکوں کی پہونچ سے دور ہیں اور اس کے پاس بڑے سمندر ساحل بھی ہیں لہذا نیوزی لینڈ آبی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کا ذاتی معاشی خطہ دنیا میں سب سے بڑا ہے جو اس کے خشکی رقبہ سے تقریباً 15 گنا بڑا ہے۔[126] شمالی جزیرہ نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا خشکی کا رقبہ ہے اور دنیا کا بارہواں بڑا جزیرہ ہے۔[127] جنوبی جزیرہ جزائر کی فہرست بلحاظ رقبہ| دنیا کا 14واں بڑا جزیرہ]] ہے۔ اس جزیرہ میں پہاڑ گرچہ کم ہیں مگر یہاں اتش فشانوں کی کثرت ہے۔[128] تاپو اتش فشانی خطہ سب سے بڑا اتش فشانی علاقہ ہے اور جزیرہ کا سب سے اونچا پہار بھی یہیں واقع ہے۔ یہیں ملک کی سب سے بڑی جھیل جھیل ٹاپو بھی واقع ہے۔ [129][130] نیوزی لیند آسٹریلیشیا نامی علاقہ کا حصہ ہے۔ اس میں آسٹریلیا بھی شامل ہے۔[131] یہ پولینیشیا نامی علاقہ میں بھی آتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے زمین کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں یہ علاقے منقسم ہیں۔[132] براعظم آسٹریلیا اور آس پاس کے علاقوں کو شامل کر کے ایک اور برا علاقہ یا خطہ بنتا ہے جسے اوقیانوسیہ کہا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ اس کا بھی حصہ ہے۔ واضح ہو کہ نیوزی لینڈ اور بحر الکاحل کے دیگر جزیرے سات براعظموں کا حصہ نہیں ہیں۔ انہیں اوقیانوسیہ کا حصہ مانا جاتا ہے۔[133]

آبادیات


فہرست متعلقہ مضامین نیوزی لینڈ

نیوزی لینڈ (اردو نقشہ)

حوالہ جات

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ نیوزی لینڈ في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اپریل 2019۔
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  3. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  4. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  5. https://www.iho.int/srv1/index.php?option=com_wrapper&view=wrapper&Itemid=452&lang=en — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: بین الاقوامی آب نگاری تنظیم
  6. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  7. عنوان : Treaty between the Government of Australia and the Government of New Zealand establishing certain Exclusive Economic Zone and Continental Shelf Boundaries
  8. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=NZ — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  9. http://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD
  10. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/NZL
  11. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  12. http://www.legislation.govt.nz/regulation/public/2004/0427/latest/DLM302188.html?search=qs_all%40act%40bill%40regulation_left+side+road_resel&p=1
  13. "Human Development Report 2018" (پی‌ڈی‌ایف)۔ HDRO (Human Development Report Office) United Nations Development Programme۔ صفحہ 22۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2018۔
  14. "New Zealand Daylight Time Order 2007 (SR 2007/185)" (انگریزی زبان میں)۔ New Zealand Parliamentary Counsel Office۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2017۔
  15. There is no official all-numeric date format for New Zealand, but government recommendations generally follow Australian date and time notation۔ See "The Govt.nz style guide"۔ New Zealand Government۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مارچ 2019۔
  16. Abel Tasman۔ "JOURNAL or DESCRIPTION By me Abel Jansz Tasman، Of a Voyage from Batavia for making Discoveries of the Unknown South Land in the year 1642."۔ Project Gutenberg Australia۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 مارچ 2018۔
  17. John Wilson۔ "European discovery of New Zealand – Tasman's achievement"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011۔
  18. John Bathgate۔ "The Pamphlet Collection of Sir Robert Stout:Volume 44. Chapter 1, Discovery and Settlement"۔ NZETC۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2018۔ He named the country Staaten Land, in honour of the States-General of Holland, in the belief that it was part of the great southern continent.
  19. John Wilson۔ "Tasman's achievement"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2008۔
  20. Duncan Mackay۔ "The Search For The Southern Land"۔ بہ B Fraser۔ The New Zealand Book Of Events۔ Auckland: Reed Methuen۔ صفحات 52–54۔
  21. Thomas Brunner۔ The Great Journey: an expedition to explore the interior of the Middle Island, New Zealand, 1846-8۔ شاہی جغرافیائی جمعیت۔
  22. John Bathgate۔ "The Pamphlet Collection of Sir Robert Stout:Volume 44. Chapter 1, Discovery and Settlement"۔ NZETC۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2018۔ He named the country Staaten Land, in honour of the States-General of Holland, in the belief that it was part of the great southern continent.
  23. Wilmshurst، J. M.; Hunt، T. L.; Lipo، C. P.; Anderson، A. J. (2010). "High-precision radiocarbon dating shows recent and rapid initial human colonization of East Polynesia". Proceedings of the National Academy of Sciences 108 (5): 1815. doi:10.1073/pnas.1015876108. PMID 21187404. Bibcode2011PNAS.۔108.1815W. 
  24. Malcolm McKinnon۔ "Place names – Naming the country and the main islands"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011۔
  25. McGlone، M.; Wilmshurst، J. M. (1999). "Dating initial Maori environmental impact in New Zealand". Quaternary International 59: 5–16. doi:10.1016/S1040-6182(98)00067-6. Bibcode1999QuInt.۔59.۔۔۔5M. 
  26. Murray-McIntosh، Rosalind P.; Scrimshaw، Brian J.; Hatfield، Peter J.; Penny، David (1998). "Testing migration patterns and estimating founding population size in Polynesia by using human mtDNA sequences". Proceedings of the National Academy of Sciences of the United States of America 95 (15): 9047–52. doi:10.1073/pnas.95.15.9047. Bibcode1998PNAS.۔۔95.9047M. 
  27. Murray-McIntosh، Rosalind P.; Scrimshaw، Brian J.; Hatfield، Peter J.; Penny، David (1998). "Testing migration patterns and estimating founding population size in Polynesia by using human mtDNA sequences". Proceedings of the National Academy of Sciences of the United States of America 95 (15): 9047–52. doi:10.1073/pnas.95.15.9047. Bibcode1998PNAS.۔۔95.9047M. 
  28. Wilmshurst، J. M.; Anderson، A. J.; Higham، T. F. G.; Worthy، T. H. (2008). "Dating the late prehistoric dispersal of Polynesians to New Zealand using the commensal Pacific rat". Proceedings of the National Academy of Sciences 105 (22): 7676. doi:10.1073/pnas.0801507105. PMID 18523023. Bibcode2008PNAS.۔105.7676W. 
  29. Moodley، Y.; Linz، B.; Yamaoka، Y.; Windsor، H.M.; Breurec، S.; Wu، J.-Y.; Maady، A.; Bernhöft، S. et al۔ (2009). "The Peopling of the Pacific from a Bacterial Perspective". Science 323 (5913): 527–530. doi:10.1126/science.1166083. PMID 19164753. Bibcode2009Sci.۔۔323.۔527M. 
  30. Angela Ballara۔ Iwi: The Dynamics of Māori Tribal Organisation from C.1769 to C.1945۔ Wellington: Victoria University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-86473-328-3۔
  31. Ross Clark۔ "Moriori and Māori: The Linguistic Evidence"۔ بہ Douglas Sutton۔ The Origins of the First New Zealanders۔ Auckland: Auckland University Press۔ صفحات 123–135۔
  32. John Wilson۔ "Government and nation – The origins of nationhood"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  33. Bernard Foster۔ Alexander McLintock, ویکی نویس.۔ Akaroa, French Settlement At۔ An Encyclopaedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  34. K Simpson۔ "Hobson, William – Biography"۔ بہ Alexander McLintock۔ Dictionary of New Zealand Biography۔ An Encyclopaedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  35. Denise Davis۔ "The impact of new arrivals"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2010۔
  36. Denise Davis؛ Māui Solomon۔ "'Moriori – The impact of new arrivals'"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مارچ 2011۔
  37. Denise Davis۔ "The impact of new arrivals"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2010۔
  38. Anne Salmond۔ Two Worlds: First Meetings Between Maori and Europeans 1642–1772۔ Auckland: پینگوئن (ادارہ)۔ صفحہ 82۔ آئی ایس بی این 0-670-83298-7۔
  39. Fitzpatrick، John (2004). "Food, warfare and the impact of Atlantic capitalism in Aotearo/New Zealand". Australasian Political Studies Association Conference: APSA 2004 Conference Papers. https://www.adelaide.edu.au/apsa/docs_papers/Others/Fitzpatrick.pdf. 
  40. Barry Brailsford۔ Arrows of Plague۔ Wellington: Hick Smith and Sons۔ صفحہ 35۔ آئی ایس بی این 0-456-01060-2۔
  41. Thor Wagstrom۔ "Broken Tongues and Foreign Hearts"۔ بہ Peggy Brock۔ Indigenous Peoples and Religious Change۔ Boston: Brill Academic Publishers۔ صفحات 71 and 73۔ آئی ایس بی این 978-90-04-13899-5۔
  42. Raeburn Lange۔ May the people live: a history of Māori health development 1900–1920۔ Auckland University Press۔ صفحہ 18۔ آئی ایس بی این 978-1-86940-214-3۔
  43. "A Nation sub-divided"۔ Australian Heritage۔ Heritage Australia Publishing۔ مورخہ 28 فروری 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 دسمبر 2014۔
  44. James Rutherford۔ Alexander McLintock, ویکی نویس.۔ Busby, James۔ An Encyclopaedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  45. Alexander McLintock (ویکی نویس.)۔ Sir George Gipps۔ An Encyclopaedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  46. Jock Phillips۔ "British immigration and the New Zealand Company"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  47. "Crown colony era – the Governor-General"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  48. "Crown colony era – the Governor-General"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  49. John Wilson۔ "Government and nation – The constitution"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2011۔ See pages 2 and 3.
  50. Philip Temple۔ Wellington Yesterday۔ John McIndoe۔ آئی ایس بی این 0-86868-012-5۔
  51. "Parliament moves to Wellington"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2017۔
  52. Philip Temple۔ Wellington Yesterday۔ John McIndoe۔ آئی ایس بی این 0-86868-012-5۔
  53. "New Zealand's 19th-century wars – overview"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  54. John Wilson۔ "History – Liberal to Labour"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2017۔
  55. سانچہ:DNZB
  56. "Crown colony era – the Governor-General"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  57. The London Gazette: no. 28058. p. . 10 ستمبر 1907.
  58. "Dominion status – Becoming a dominion"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2017۔
  59. "War and Society"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  60. Alexander McLintock (ویکی نویس.)۔ Sir George Gipps۔ An Encyclopaedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  61. Brian Easton۔ "Economic history – Interwar years and the great depression"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  62. Mark Derby۔ "Strikes and labour disputes – Wars, depression and first Labour government"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 فروری 2011۔
  63. Brian Easton۔ "Economic history – Great boom, 1935–1966"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 فروری 2011۔
  64. Basil Keane۔ "Te Māori i te ohanga – Māori in the economy – Urbanisation"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جنوری 2011۔
  65. Te Ahukaramū Royal۔ "Māori – Urbanisation and renaissance"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 فروری 2011۔
  66. Healing the past, building a future: A Guide to Treaty of Waitangi Claims and Negotiations with the Crown (PDF)۔ Office of Treaty Settlements۔ آئی ایس بی این 978-0-478-32436-5۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2017۔
  67. (en-NZ میں) Report on the Crown's Foreshore and Seabed Policy. Ministry of Justice. https://forms.justice.govt.nz/search/WT/reports/reportSummary.html?reportId=wt_DOC_68000605۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 اپریل 2017. 
  68. Fiona Barker۔ "Debate about the foreshore and seabed"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2017۔
  69. "New Zealand's Constitution"۔ The Governor-General of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2010۔
  70. "New Zealand's Constitution"۔ The Governor-General of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2010۔
  71. "Factsheet – New Zealand – Political Forces"۔ دی اکنامسٹ۔ The Economist Group۔ مورخہ 14 مئی 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اگست 2009۔
  72. "Factsheet – New Zealand – Political Forces"۔ دی اکنامسٹ۔ The Economist Group۔ مورخہ 14 مئی 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اگست 2009۔
  73. "Factsheet – New Zealand – Political Forces"۔ دی اکنامسٹ۔ The Economist Group۔ مورخہ 14 مئی 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اگست 2009۔
  74. "Factsheet – New Zealand – Political Forces"۔ دی اکنامسٹ۔ The Economist Group۔ مورخہ 14 مئی 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اگست 2009۔
  75. "Royal Titles Act 1974"۔ New Zealand Parliamentary Counsel Office۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جنوری 2011۔
  76. Constitution Act 1986. New Zealand Parliamentary Counsel Office. 1 جنوری 1987. Section 2.1. http://www.legislation.govt.nz/act/public/1986/0114/latest/whole.html#DLM94210۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 جولائی 2018. "The Sovereign in right of New Zealand is the head of State of New Zealand, and shall be known by the royal style and titles proclaimed from time to time.". 
  77. Constitution Act 1986. New Zealand Parliamentary Counsel Office. 1 جنوری 1987. Section 2.1. http://www.legislation.govt.nz/act/public/1986/0114/latest/whole.html#DLM94210۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 جولائی 2018. "The Sovereign in right of New Zealand is the head of State of New Zealand, and shall be known by the royal style and titles proclaimed from time to time.". 
  78. "The Role of the Governor-General"۔ The Governor-General of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جولائی 2017۔
  79. Harris، Bruce (2009). "Replacement of the Royal Prerogative in New Zealand". New Zealand Universities Law Review 23: 285–314. http://www.britannica.com/bps/additionalcontent/18/41876855/REPLACEMENT-OF-THE-ROYAL-PREROGATIVE-IN-NEW-ZEALAND۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 اگست 2016. 
  80. "The Reserve Powers"۔ The Governor-General of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جنوری 2011۔
  81. Te Ahukaramū Royal۔ "Māori – Urbanisation and renaissance"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 فروری 2011۔
  82. "Parliament Brief: What is Parliament?"۔ New Zealand Parliament۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2016۔
  83. "The Reserve Powers"۔ The Governor-General of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 جنوری 2011۔
  84. Gavin McLean۔ "Premiers and prime ministers" (انگریزی زبان میں)۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2016۔
  85. John Wilson۔ "Government and nation – System of government"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2011۔
  86. Te Ahukaramū Royal۔ "Māori – Urbanisation and renaissance"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 فروری 2011۔
  87. "Principles of Cabinet decision making"۔ Cabinet Manual۔ Department of the Prime Minister and Cabinet۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2016۔
  88. "The electoral cycle"۔ Cabinet Manual۔ Department of the Prime Minister and Cabinet۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2017۔
  89. "Reviewing electorate numbers and boundaries"۔ Electoral Commission۔ مورخہ 9 نومبر 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جولائی 2018۔
  90. "Sainte-Laguë allocation formula"۔ Electoral Commission۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مئی 2014۔
  91. Pamela Paxton؛ Melanie M. Hughes۔ Women, Politics, and Power: A Global Perspective (انگریزی زبان میں)۔ CQ Press۔ صفحہ 107۔ آئی ایس بی این 978-1-4833-7701-8۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 جولائی 2017۔
  92. "Jacinda Ardern sworn in as new Prime Minister"۔ New Zealand Herald (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اکتوبر 2017۔
  93. "Female political leaders have been smashing glass ceilings for ages"۔ Stuff.co.nz (انگریزی زبان میں)۔ Fairfax NZ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2018۔
  94. "Role of the Chief Justice"۔ Courts of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جون 2018۔
  95. "The Fragile States Index 2016"۔ The Fund for Peace۔ مورخہ 4 فروری 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2016۔
  96. "Democracy Index 2017" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Economist Intelligence Unit۔ صفحہ 5۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 دسمبر 2018۔
  97. "New Zealand"۔ Country Reports on Human Rights Practices for 2017۔ United States Department of State۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 دسمبر 2018۔
  98. "New Zealand"۔ OECD Better Life Index۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2016۔
  99. "Democracy Index 2017" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Economist Intelligence Unit۔ صفحہ 5۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 دسمبر 2018۔
  100. "Michael Joseph Savage"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 جنوری 2011۔
  101. "Department Of External Affairs: Security Treaty between Australia, New Zealand and the United States of America"۔ Australian Government۔ مورخہ 29 جون 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  102. "The Vietnam War"۔ New Zealand History۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  103. "Sinking the Rainbow Warrior – nuclear-free New Zealand"۔ New Zealand History۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  104. "Nuclear-free legislation – nuclear-free New Zealand"۔ New Zealand History۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  105. David Lange۔ Nuclear Free: The New Zealand Way۔ New Zealand: پینگوئن (ادارہ)۔ آئی ایس بی این 0-14-014519-2۔
  106. "Australia in brief"۔ Australian Department of Foreign Affairs and Trade۔ مورخہ 22 دسمبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  107. "New Zealand country brief"۔ Australian Department of Foreign Affairs and Trade۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  108. John Collett۔ "Kiwis face hurdles in pursuit of lost funds"۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اکتوبر 2013۔
  109. Geoff Bertram۔ "South Pacific economic relations – Aid, remittances and tourism"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  110. Stephen Howes۔ "Making migration work: Lessons from New Zealand"۔ Development Policy Centre۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مارچ 2011۔
  111. "Member States of the United Nations"۔ United Nations۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  112. "New Zealand"۔ The Commonwealth۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2016۔
  113. ^ ا ب پ "New Zealand's Nine Provinces (1853–76)" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Friends of the Hocken Collections۔ University of Otago۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2011۔
  114. Dollery، Brian; Keogh، Ciaran; Crase، Lin (2007). "Alternatives to Amalgamation in Australian Local Government: Lessons from the New Zealand Experience". Sustaining Regions 6 (1): 50–69. http://www.anzrsai.org/system/files/f8/f9/f39/f40/o186//Dollery%20sustaining%20regions%20article.pdf. 
  115. Nancy Swarbrick۔ "Public holidays" (انگریزی زبان میں)۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 جون 2017۔
  116. "Overview – regional rugby"۔ Ministry for Culture and Heritage۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2011۔
  117. Dollery، Brian; Keogh، Ciaran; Crase، Lin (2007). "Alternatives to Amalgamation in Australian Local Government: Lessons from the New Zealand Experience". Sustaining Regions 6 (1): 50–69. http://www.anzrsai.org/system/files/f8/f9/f39/f40/o186//Dollery%20sustaining%20regions%20article.pdf. 
  118. Andrew Sancton۔ Merger mania: the assault on local government۔ McGill-Queen's University Press۔ صفحہ 84۔ آئی ایس بی این 0-7735-2163-1۔
  119. "Subnational population estimates at 30 جون 2010 (boundaries at 1 نومبر 2010)"۔ Statistics New Zealand۔ مورخہ 10 جون 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2011۔
  120. "New Zealand"۔ The Commonwealth۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2016۔
  121. "Members and partners"۔ Organisation for Economic Co-operation and Development۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2011۔
  122. "System of Government"۔ Government of Niue۔ مورخہ 13 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2010۔
  123. "Government – Structure, Personnel"۔ Government of the Cook Islands۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2010۔
  124. Alexander McLintock (ویکی نویس.)۔ The Sea Floor۔ An Encyclopaedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جنوری 2011۔
  125. D. W. McKenzie۔ Heinemann New Zealand atlas۔ Heinemann Publishers۔ آئی ایس بی این 0-7900-0187-X۔
  126. Offshore Options: Managing Environmental Effects in New Zealand's Exclusive Economic Zone (PDF)۔ Wellington: Ministry for the Environment۔ آئی ایس بی این 0-478-25916-6۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 جون 2017۔
  127. Glen Coates۔ The rise and fall of the Southern Alps۔ Canterbury University Press۔ صفحہ 15۔ آئی ایس بی این 0-908812-93-0۔
  128. "Central North Island volcanoes"۔ Department of Conservation۔ مورخہ 29 دسمبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2011۔
  129. Carl Walrond۔ "Natural environment – Geography and geology"۔ Te Ara: The Encyclopedia of New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2010۔
  130. "Taupo"۔ GNS Science۔ مورخہ 24 مارچ 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اپریل 2011۔
  131. "Australasia"۔ New Zealand Oxford Dictionary۔ Oxford University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-19-558451-6۔ ڈی او آئی:10.1093/acref/9780195584516.001.0001۔
  132. Joseph J. Hobbs۔ Fundamentals of World Regional Geography (انگریزی زبان میں)۔ Cengage Learning۔ صفحہ 367۔ آئی ایس بی این 978-1-305-85495-6۔
  133. Kevin Hillstrom؛ Laurie Collier Hillstrom۔ Australia, Oceania, and Antarctica: A Continental Overview of Environmental Issues۔ ABC-CLIO۔ صفحہ 25۔ آئی ایس بی این 978-1-57607-694-1۔ …defined here as the continent nation of Australia, New Zealand, and twenty-two other island countries and territories sprinkled over more than 40 million square kilometres of the South Pacific.
  134. "Subnational Population Estimates: At 30 June 2018 (provisional)"۔ Statistics New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2018۔ For urban areas, "Subnational population estimates (UA, AU), by age and sex, at 30 June 1996, 2001, 2006-18 (2017 boundaries)"۔ Statistics New Zealand۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اکتوبر 2018۔
The article is a derivative under the Creative Commons Attribution-ShareAlike License. A link to the original article can be found here and attribution parties here. By using this site, you agree to the Terms of Use. Gpedia Ⓡ is a registered trademark of the Cyberajah Pty Ltd.