ویکیپیڈیا:امیدوار برائے منتخب مضمون

یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

بہترین مضامین کی نامزدگی کے لیے ویکیپیڈیا:امیدوار برائے بہترین مضمون ملاحظہ فرمائیں۔

یہ ستارہ جس کا ایک کونہ ٹوٹا ہوا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ متعلقہ مواد منتخب ہونے کا اُمیدوار ہے۔

یہاں ہم اس بات تعین کرنا چاہتے ہیں کہ کونسے مضامین منتخب مضمون کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔ منتخب مضامین ویکیپیڈیا کی بہترین کارکردگی کا نمونہ ہیں اور نامزدہ شدہ مضمون ہر لحاظ سے ویکیپیڈیا کے منتخب مضمون کے معیار پر پورا اُترنا چاہیے، بصورتِ دیگر اُنہیں اس فہرست سے خارج کردیا جائے گا۔
کسی بھی مضمون کو نامزد کرنے سے پہلے نامزد کنندہ دیگر صارفین کی آراء معلوم کرلے۔ نامزد کنندہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ویکیپیڈیا کے قواعد و ضوابط سے کما حقہ آگاہی رکھتا ہو اور منتخب مضمون کے مرحلے سے گزرنے کے دوران مضمون کے تمام تر اعتراضات و کمزور پہلوؤں کو دور کرسکے۔ ایسے نامزد کنندگان جو نامزد کردہ مضمون کے تحریری مشارکین میں شامل نہ ہوں، وہ براہ کرم نامزد کرنے سے قبل متعلقہ مضمون کے مصنفین سے ضرور رائے لے لیں۔ نامزد کنندگان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تنقید کا مثبت جواب دیں گے اور اس سلسلے میں اُٹھائے گئے تمام اعتراضات کو دور کرنے میں پرُ خلوص کوشش کریں گے۔

نامزدگی کا طریقۂ کار

  1. نامزدگی سے قبل اس بات کا یقین کر لیں کہ مطلوبہ مضمون منتخب مضمون کے معیار کے مطابق ہو، اور اس پر متعلقہ مضمون کے مصنفین کی رائے محفوظ کرلی گئی ہو۔
  2. نامزد شدہ مضمون کے تبادلۂ خیال صفحہ کے اوپر {{ابم}} درج کریں اور صفحہ محفوظ کر دیں۔
  3. مضمون پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ڈال کر محفوظ کر دیں۔
  4. مضمون کے مصنفین کو مطلع کردیں کہ اس مضمون کو منتخب مقالہ کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے۔
  5. بعد ازاں یہ عبارت {{ویکیپیڈیا:امیدوار برائے منتخب مضمون/یہاں مضمون کا نام درج کریں}} اس صفحہ میں درج کر کے محفوظ کر دیں۔

تائید و تنقید

براہ کرم نامزد کردہ کسی بھی مضمون پر تائید و تنقید کرنے سے پہلے درج ذیل امور بغور ملاحظہ فرما لیں۔

  1. کسی بھی نامزدگی پر ردِ عمل کے اظہار کے لئے نامزد کردہ کے سامنے بائیں جانب دیا گیا “ترمیم“ کے بٹن پر کلک کریں (نہ کہ صفحہ کے بالائی جانب دیا گیا “ترمیم“ کا آپشن جو کہ پورے صفحے کی ترمیم و تدوین کے لئے ہے)۔
  2. کسی بھی مضمون کی تائید کرنے کے لئے {{تائید}} لکھیں اور ساتھ ہی تائید کرنے کی وجوہات بھی بیان کریں۔ اگر آپ اس مضمون کی تصنیف میں شامل رہ چکے ہیں تو اس کی بھی نشاندہی کریں۔
  3. کسی بھی مضمون پر تنقید کرنے کے لئے {{تنقید}} لکھیں اور ساتھ ہی تنقید کرنے کی وجوہات بھی بیان کریں۔ مضمون کی اُن خامیوں کی نشاندہی کریں جسے دور کرنے پر مضمون کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
  4. تائید و تنقید کے اس مرحلے کے دوران ذاتیات سے قطعاً گریزاں رہیں اور اپنی تائید یا تنقید کی علمی وجوہات بیان کریں۔ نیز خیالی و تصوراتی شکوک و شبہات سے پرہیز کریں۔
  5. کسی بھی مضمون پر تبصرہ کرنے کے لئے {{تبصرہ}} لکھیں اور مضمون کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں، جو مضمون پر تنقید یا تائید کے علاوہ ہو۔
کلید

فہرست


نامزد فہرستیں

نامزد مضامین

مسجد وزیر خان

درج ذیل گفتگو بند کردی گئی ہے اور جلد ہی وثق میں تبدیل کردی جائے گی۔

نامزد کنندہ(گان):--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:35, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

یہ مضمون مغلیہ فن تعمیر کا ایک اعلیٰ شاہکار مسجد وزیر خان پر مشتمل ہے۔ یہ مسجد بھارت اور پاکستان میں موجود مغلیہ عمارات میں سے چند اعلیٰ تعمیرات میں شامل ہے۔ اس مسجد کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ شامل کیا ہے۔اس مضمون کے صفحہ ساز عامر شاہین ہیں۔ بعد ازاں محترم محمد عمیر مرزا کی انتھک محنت نے مذکورہ مضمون کو ایک عمدہ مضمون بنا دیاہے۔ اس کے علاوہ اس مضمون میں محترم طاہر محمود صاحب اور راقم (محمد عارف سومرو) نے بھی اپنا مقدور بھر حصہ ڈالا۔ آپ سب سے گزارش ہے اس مضمون کی رائے شماری میں حصہ لیں اور اپنی Symbol support vote.svg تائید، Symbol oppose vote.svg تنقید اور اپنے تبصرہ: سے اس مضمون کے بارے میں خیالات کا اظہار کریں۔ شکریہ-محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:52, 6 جنوری 2017 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

  • مغلیہ سلطنت کے اہم شہروں میں ایک لاہور بھی شامل ہے جہاں ماضی کی شاندار عمارات مغلیہ سلطنت کے عہد میں تعمیر ہوئیں۔ لاہور میں مغلیہ طرز تعمیر اب بھی اپنے باقی ماندہ شاندار ماضی کی جھلک میں نمایاں صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مسجد وزیر خان عہد شاہجہانی میں تعمیر کی جانے والی ایک عظیم الشان اور نفیس کاشی کار نقاشی کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ عہد حاضر میں بھی مسجد وزیر خان غیر ملکی سیاحوں کا مرکز بنی رہتی ہے۔ اِس مسجد کی تاریخ مؤرخین لاہور نے تفصیلی بیان تو کی ہے مگر نقشہ تفصیلی بیان نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں میں راقم نے متعدد بار کے دورے سے مسجد کا نقشہ تفصیلی طور پر تحریر کیا اور فی زمانہ مسجد کے احوال قلمبند کیے۔ اب یہ قارئین پر منحصر ہے کہ اِس مضمون کو کیسا پاتے ہیں؟ Muhammad Umair Mirza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:25, 6 جنوری 2017 (م ع و)

نتیجہ

YesY منتخب کر لیا گیا۔ --محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:44, 17 جنوری 2017 (م ع و)

مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی

درج ذیل گفتگو بند کردی گئی ہے اور جلد ہی وثق میں تبدیل کردی جائے گی۔
نامزد کنندہ(گان):--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:35, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

یہ مضمون ٹھٹہ سندھ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے عظیم محدث، یگانۂ روزگار فقیہ اور قادر الکلام شاعر کی شخصیت پر تحریر کیا گیا جن کی شہرت بین الاقوامی حیثیت کی حامل ہے۔ مواد کے حساب سے شخصیت کا مکمل احاطہ کرنے کی حقیر سی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ مضمون سندھ کی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے نمائندہ مضمون ہے۔--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:35, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

  • مضمون کی تو تائید کر چکا ہوں، تاہم منتخب مضمون کا ربط تباہ حالت میں ہے، صفحہ اول عجیب سی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ سلسلہ وار انداز میں منتخب مضامین کو ان کا مستحقہ مقام دیدہ زیب انداز میں دیا جائے۔ --مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:54, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)
YesY تکمیل :) یہ صارف منتظم ہے—خادم— 

نتیجہ

YesY منتخب کر لیا گیا۔ :) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  13:43, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

ویکیپیڈیا:امیدوار برائے منتخب مضمون/خلافت عباسیہ

محترم طاہر محمود بھائی، غالبًا اسی رائے شماری کے پیش نظر محمد علی جناح کو کچھ عرصہ پہلے تک صفحہ اول کی زینت بنایا گیا تھا۔ عبید بھائی نے اسے بدلا تھا۔ رام پرساد بسمل کا مضمون کبھی یہ مقام و مرتبہ نہیں پا رہا حالانکہ اس میں اردو ویکیپیڈیا کے سب سے زیادہ حوالہ جات ہیں اور جتنا اس ایک شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے، ویسا پتہ نہیں کہ ہمارے پاس کسی اور مضمون میں کسی اور شخصیت پر ڈالی گئی ہے کہ نہیں۔--مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:54, 8 مئی 2016 (م ع و)

محمد عاکف ارصوی

Symbol support vote.svg تائید - یہ مضمون میرا لکھا ہوا ہے، اس لیے اس کے حق میں رائے دیتے ہوئے اچھا تو نہیں لگتا لیکن مضمون پر کی گئی محنت مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہے Smile.PNG فہد احمد 11:59, 13 نومبر 2009 (UTC)

مملکت آصفیہ

نامزد کنندہ(گان): طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:32, 16 مئی 2016 (م ع و)

یہ مضمون منتخب مضمون بننے کا حقدار ہے۔ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اسے جلد از جلد منتخب مضمون بنانے میں مدد کریں۔۔ طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:32, 16 مئی 2016 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

نفخ

Symbol support vote.svg تائید فہد احمد 11:59, 13 نومبر 2009 (UTC)

کریمیائی تاتاریوں کی جبری ملک بدری

نامزد کنندہ(گان): Smile.PNG فہد احمد 11:59, 13 نومبر 2009 (UTC)

یہ مضمون منتخب مضمون بننے کا حقدار ہے۔ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اسے جلد از جلد منتخب مضمون بنانے میں مدد کریں۔ طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:38, 16 مئی 2016 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

سید علی عباس جلالپوری، '

ٹیپو سلطان

نامزد کنندہ(گان): طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:56, 16 مئی 2016 (م ع و)

یہ مضمون منتخب مضمون بننے کا حقدار ہے۔ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اسے جلد از جلد منتخب مضمون بنانے میں مدد کریں۔۔ طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:47, 16 مئی 2016 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

تبصرہ: کسی بھی صارف کا منتخب معیار تک پہنچنے سے قبل مضمون کی تائید کرنا غلط امر ہے۔-- جواب 06:40, 17 مئی 2016 (م ع و)

تبصرہ: آپ کی بات بالکل درست ہے۔ دراصل ہمارے ایک ساتھی نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ٹیپو سلطان اور ابو الکلام آزاد کو منتخب مضمون ہونا چاہیے، اور میرا خیال ہے کہ سب اس بات سے متفق ہوں گے کہ واقعی یہ مضامین منتخب مضمون ہونا چاہیں۔ اسی لیے میں نے ان کو امیدوار برائے منتخب مضمون بنایا کہ سب ساتھی مشترکہ کوشش سے انہیں منتخب مضمون بنائیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم جلد ہی ان کو کو منتخب مضمون کے معیار پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔--طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:44, 20 مئی 2016 (م ع و)

تبصرہ: @Drcenjary: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام صاحب کی مشہور کتاب Wings of Fire میں مرحوم نے ناسا میں ٹیپو سلطان کی تصویر دیکھنے کی بات کہی تھی، جس کا سبب اس دور کے عسکری ایجادات تھے۔ چونکہ آپ ایک جامعہ سے منسلک ہیں، اس موضوع کا مطالعہ کر کے متعلقہ مواد شامل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی ادب میں ٹیپو سلطان کا تذکرہ بھی دلچسپ موضوع ہے۔ جن دنوں میں بنگلور میں تھا میں نے ٹیپو سلطان کا پسندیدہ کھلونا دیکھا تھا جس کی رو سے لکڑی کے بنے انگریز فوجی کو شیر مسلسل حملہ کررہا تھا۔ اس سے ٹیپو کی انگریز دشمنی عیاں ہوتی ہے۔ ٹیپو کی زرعی اور ماحولیات دوست اصولوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ یہ بات کہ ٹیپو کے دو بیٹے انگریزوں کے قبضے میں رہے اور بعد میں انہیں دوران حکومت ہی رہا کیا گیا تھا، تفصیل طلب ہے اور اسے شامل کرنا چاہیے۔ ان اضافوں سے یہ مضمون کی افادیت بڑھے گی اور ہم اسے بجا طور منتخب کرسکیں گے۔--مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 10:07, 20 مئی 2016 (م ع و)

@Hindustanilanguage:جی جناب! یہ کام میرے لیے باعث افتخار ہو گا ۔ میں فی الحال بنگلور میں ہوں۔ کیرل کے لیے واپسی آج رات متوقع تھی ۔ سفر میں تبدیلی لاتے ہوئے میں نے سری رنگا پٹنم کا اردارہ کر لیا ہے۔ صبح سری رنگا پٹنم پہنچوں گا ( یہ عبارت ٹرین میں سوار ہونے کے بعد لکھی جا رہی ہے۔ آپ نے دلچسپی لی۔ بہت خوشی ہوئی۔ قوی امید ہے کے دیگر صارفین بھی اس میں ضرور دلچسپی لیں گے۔--Drcenjary (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:00, 20 مئی 2016 (م ع و)
@Drcenjary: اگر کچھ خاص تصاویر آپ سری رنگا پٹنم کے کامنز پر اپلوڈ کریں تو یہ مضمون میں چار چاند لگا سکتے ہیں۔ --مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 19:08, 20 مئی 2016 (م ع و)
تبصرہ: یقیناََ یہ مضمون ایک اہم موضوع پر ہے۔تاہم اس وقت (21 مئی 216ء کو) اس مضمون کا حجم 17,476 بائٹس ہے،اس لیے یہ مضمون فی الوقت اتنا مفصل نہیں ہے۔ مفصل ہونا منتخب مضمون کے معیارات کا حصہ ہے۔لہذا اگر ساتھی اس پر کام کر کے اس کو منتخب مضمون بنانے میں کردار ادا کریں تو یہ خوش آئیند بات ہو گی۔--Animalibrí.gifعثمان خان||تبادلہ خیال 21:28, 20 مئی 2016 (م ع و)

تبصرہ: یقینا اس مضمون کو منتخب ہونا چاہئے اور اسے اس مقام تک پہنچانا کوئی مشکل بھی نہیں ہے بشرطِ ہم سب اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔-- جواب 04:13, 21 مئی 2016 (م ع و)

@Hindustanilanguage: الحمد اللہ، تصاویر لی جا چکی ہیں۔ ابھی تک میں نے کوئی تصویر اپلوڈ نہیں کی ہے۔ دیکھں کیا کیا جاسکتا ہے۔ اب تو کرنا ہی کرنا ہے۔ عثمان خان صاحب اورافضل صاحب کے تبصرے اصل میں Inspiration کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (Togehter Everybody Achieve More (TEAM ہی ان کے تبصروں کا لبِ لباب ہے۔--Drcenjary (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:57, 21 مئی 2016 (م ع و)
@Drcenjary: بہت خوب! اب اگزارش ہے آپ ان تصاویر کو کامنز پر اپلوڈ کیجیے۔ اسی طرح مضمون میں اوپر ونگز آف فائر کا تبصرہ بھی شامل کریں تو نوازش ہوگی۔--مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 14:13, 25 مئی 2016 (م ع و)

ابو الکلام آزاد

نامزد کنندہ(گان): طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:47, 16 مئی 2016 (م ع و)

یہ مضمون منتخب مضمون بننے کا حقدار ہے۔ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اسے جلد از جلد منتخب مضمون بنانے میں مدد کریں۔۔ طاہر محمود (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:47, 16 مئی 2016 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

  • مولانا آزاد کی مایہ ناز کتاب انڈیا ونس فریڈم پر بھی ہمارے یہاں ایک مضمون ہونا چاہیے۔ اس مضمون میں اس کتاب کے کچھ پہلو، مثلاً ان کے اور نہرو صاحب کے اختلافات کو یہاں بھی جگہ دی جانی چاہیے۔ ان کے بارے میں میر ایک مضمون موجود ہے، کتنا مستند ہے یا نہیں، یہ آپ لوگ سوچ کر بروئے کار لا سکتے ہیں یا بخوشی نظر انداز بھی کرسکتے ہیں۔ --مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 10:23, 20 مئی 2016 (م ع و)




مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی

درج ذیل گفتگو بند کردی گئی ہے اور جلد ہی وثق میں تبدیل کردی جائے گی۔
نامزد کنندہ(گان):--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:35, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

یہ مضمون ٹھٹہ سندھ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے عظیم محدث، یگانۂ روزگار فقیہ اور قادر الکلام شاعر کی شخصیت پر تحریر کیا گیا جن کی شہرت بین الاقوامی حیثیت کی حامل ہے۔ مواد کے حساب سے شخصیت کا مکمل احاطہ کرنے کی حقیر سی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ مضمون سندھ کی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے نمائندہ مضمون ہے۔--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:35, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

  • مضمون کی تو تائید کر چکا ہوں، تاہم منتخب مضمون کا ربط تباہ حالت میں ہے، صفحہ اول عجیب سی تصویر پیش کر رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ سلسلہ وار انداز میں منتخب مضامین کو ان کا مستحقہ مقام دیدہ زیب انداز میں دیا جائے۔ --مزمل (تبادلۂ خیالشراکتیں) 11:54, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)
YesY تکمیل :) یہ صارف منتظم ہے—خادم— 

نتیجہ

YesY منتخب کر لیا گیا۔ :) یہ صارف منتظم ہے—خادم—  13:43, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

مسجد وزیر خان

درج ذیل گفتگو بند کردی گئی ہے اور جلد ہی وثق میں تبدیل کردی جائے گی۔

نامزد کنندہ(گان):--محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 04:35, 3 اکتوبر 2016 (م ع و)

یہ مضمون مغلیہ فن تعمیر کا ایک اعلیٰ شاہکار مسجد وزیر خان پر مشتمل ہے۔ یہ مسجد بھارت اور پاکستان میں موجود مغلیہ عمارات میں سے چند اعلیٰ تعمیرات میں شامل ہے۔ اس مسجد کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ شامل کیا ہے۔اس مضمون کے صفحہ ساز عامر شاہین ہیں۔ بعد ازاں محترم محمد عمیر مرزا کی انتھک محنت نے مذکورہ مضمون کو ایک عمدہ مضمون بنا دیاہے۔ اس کے علاوہ اس مضمون میں محترم طاہر محمود صاحب اور راقم (محمد عارف سومرو) نے بھی اپنا مقدور بھر حصہ ڈالا۔ آپ سب سے گزارش ہے اس مضمون کی رائے شماری میں حصہ لیں اور اپنی Symbol support vote.svg تائید، Symbol oppose vote.svg تنقید اور اپنے تبصرہ: سے اس مضمون کے بارے میں خیالات کا اظہار کریں۔ شکریہ-محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 06:52, 6 جنوری 2017 (م ع و)

تائید

تنقید

تبصرے

  • مغلیہ سلطنت کے اہم شہروں میں ایک لاہور بھی شامل ہے جہاں ماضی کی شاندار عمارات مغلیہ سلطنت کے عہد میں تعمیر ہوئیں۔ لاہور میں مغلیہ طرز تعمیر اب بھی اپنے باقی ماندہ شاندار ماضی کی جھلک میں نمایاں صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مسجد وزیر خان عہد شاہجہانی میں تعمیر کی جانے والی ایک عظیم الشان اور نفیس کاشی کار نقاشی کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ عہد حاضر میں بھی مسجد وزیر خان غیر ملکی سیاحوں کا مرکز بنی رہتی ہے۔ اِس مسجد کی تاریخ مؤرخین لاہور نے تفصیلی بیان تو کی ہے مگر نقشہ تفصیلی بیان نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں میں راقم نے متعدد بار کے دورے سے مسجد کا نقشہ تفصیلی طور پر تحریر کیا اور فی زمانہ مسجد کے احوال قلمبند کیے۔ اب یہ قارئین پر منحصر ہے کہ اِس مضمون کو کیسا پاتے ہیں؟ Muhammad Umair Mirza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 16:25, 6 جنوری 2017 (م ع و)

نتیجہ

YesY منتخب کر لیا گیا۔ --محمد عارف سومرو (تبادلۂ خیالشراکتیں) 13:44, 17 جنوری 2017 (م ع و)


مزید دیکھیں

The article is a derivative under the Creative Commons Attribution-ShareAlike License. A link to the original article can be found here and attribution parties here. By using this site, you agree to the Terms of Use. Gpedia Ⓡ is a registered trademark of the Cyberajah Pty Ltd.