نبی بخش بلوچ

(ڈاکٹر نبی بخش بلوچ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ.jpg
پیدائش نبی بخش لغاری
16 دسمبر 1917(1917-12-16)ء

گوٹھ جعفرخان لغاری، ضلع سانگھڑ، سندھ، برطانوی ہندوستان (پاکستان)
وفات 6 اپریل 2011(2011-04-06)ء

حیدرآباد، سندھ، پاکستان
پیشہ مصنف ، ماہرِ تعلیم، محقق، مؤرخ، ماہرِ لسانیات، وائس چانسلر، تاحیات پروفیسر، مشیر قومی ہجرہ کونسل
زبان اردو، سندھی، بلوچی، عربی، فارسی
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل لغاری، بلوچ
تعلیم ایل ایل بی، ایم اے (عربیپی ایچ ڈی (تعلیم)
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی نیویارک
اصناف تاریخ، لسانیات، تحقیق، لوک ادب، لطیفیات
موضوع عربی، تعلیم، لوک ادب، لطیفیات
نمایاں کام سندھ میں اُردو شاعری
سندھی صورتخطی اور خطاطی
سندھی موسیقی جی مختصر تاریخ
جامع سندھی لغات
اہم اعزازات صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی
ستارہ امتیاز
کمال فن ادب انعام

ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، المعروف ڈاکٹر این اے بلوچ (انگریزی: Nabi Bakhsh Khan Baloch)، (پیدائش: 16 دسمبر،1917ء - وفات: 6 اپریل، 2011ء) پاکستان میں پیدا ہونے والے مؤرخ، ماہرِ لسانیات، محقق، ماہرِ لوک ادب، ماہرِلطیفیات، ماہرِ تعلیم، بانی و وائس چانسلر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی، تاحیات پروفیسر، مشیر قومی ہجرہ کونسل اور بانی و چیئرمین سندھی زبان کابااختیار ادارہ (Sindhi Language Authority) تھے۔

حالات زندگی

پیدائش و ابتدائی تعلیم

ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ گوٹھ جعفر خان لغاری، ضلع سانگھڑ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں 16 دسمبر 1917ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام علی محمد خان تھا، لیکن نبی بخش کی ولادت کے محض چھ ماہ بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ والد نے آخر وقت میں وصیت کی کہ میرے بچے کو پڑھانا۔،[1] جسے آپ کے چچا ولی محمد خان نے پورا کیا۔ اس زمانے میں گوٹھ جعفر خان لغاری میں کوئی باقاعدہ اسکول نہیں تھا اس لیے چچا نے انھیں گاؤں کے ہندو استاد سومل کے پاس ابتدائی تعلیم کے لیے بھیجا جہاں نبی بخش نے ابتدائی حروفِ تہجی اور اعداد سیکھے۔ اس کے بعد 1924ء میں گوٹھ پلیو خان لغاری کے پرائمری اسکول میں داخل ہوئے۔ مارچ 1929ء میں بلوچ صاحب مزید تعلیم کے لیے نوشہرو فیروز کے مدرسہ و ہائی اسکول میں داخل ہوئے[2] اس کے بعد نبی بخش نے ڈی جے کالج کراچی میں داخلہ لیا، لیکن مالی مشکلات کی بنا پر یہاں تعلیم جاری نہ رکھ سکے چنانچہ نبی بخش جوناگڑھ پہنچے جہاں بہا الدین کالج میں داخلہ لیا، یہاں نبی بخش کو کسی قسم کی مالی مشکلات کا سامنا نہیں ہوا۔[3] بہا الدین کالج جوناگڑھ میں بلوچ صاحب کا قیام 1937ء سے 1941ء تک رہا۔[4] جہاں سے نبی بخش نے بی اے آنرز میں پہلی پوزیشن حاصل کی جس کی بنا پر ان کو ایک سو روپے ماہوار مہابت فیلو شپ وظیفہ (بنام نواب مہابت خان والئی ریاست جوناگڑھ) ملا۔[5]

اعلیٰ تعلیم

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ 1941ء سے 1945ء تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم رہے جہاں سے انہوں نے ایل ایل بی اوربعدازاں ایم اے (عربی) فرسٹ کلاس فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ صدر شعبۂ عربی پروفیسر علامہ عبدالعزیز میمن کی رہنمائی اور مسلسل محنت کے نتیجہ میں انہوں نے اُموی دور کے آخر کے ایک باغی قائد منصور بن جمہور کے سندھ پر تسلط پر اپنا پہلا تحقیقی مقالہ لکھا جو حیدرآباد دکن کے معروف علمی و تحقیقی رسالے "Islamic Culture" میں شائع ہوا جس کے لیے شعبۂ تاریخ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ عبد الرشید نے معاونت کی۔

1945ء میں برطانوی حکومت نے مرکزی سطح پربرِ صغیر میں ڈاکٹریٹ کے لیے اسکالر شپ کا اعلان کیا۔ بلوچ صاحب نے آل انڈیا سطح پر اس مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور16 اگست،1946ء کو بمبئی سے امریکہ روانہ ہوئے جہاں کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں A Programme of Teacher Education for the New State of Pakistan کے نام سے تحقیقی مقالے کا آغاز کیا اور 1949ء میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کر کے تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے واپس پاکستان پہنچے۔[6]

ملازمت

سندھ مسلم کالج

پیر الٰہی بخش اور ڈاکٹر امیر حسن صدیقی کے اصرار پر بلوچ صاحب علی گڑھ چھوڑ کر سندھ مسلم کالج کراچی میں لکچرار ہو گئے۔[7]

وزارت اطلاعات و نشریات

1950ء میں وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان میں افسربکار خاص (Officer on Spacial Duty) کی حیثیت سے اور بعد ازاں اسی وزارت میں بیرونی نشریات کے شعبے میں قدرت اللہ شہاب کے ماتحت خدمات انجام دیں۔ 1951ء میں بلوچ صاحب کو ان کی اعلیٰ تعلیم اور صلاحیت کی بنیاد پر دمشق میں پاکستانی سفارتخانے میں پریس اتاشی مقرر کیا گیا۔

سندھ یونیورسٹی

ستمبر 1951ء میں علامہ آئی آئی قاضی کی ترغیب پر بلوچ صاحب نے سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ تعلیم میں بحیثیت پروفیسر خدمات کا آغاز کیا۔[8] دسمبر 1973ء میں نبی بخش بلوچ کو سندھ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور اسی سال آپ کو (National Merit Professor) کا درجہ بھی عطا کیا گیا۔[9] نبی بخش بلوچ نے دسمبر 1973ء سے جنوری 1976ء تک سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکے طور پر خدمات انجام دیں۔ نبی بخش بلوچ نے دسمبر 1973ء سے جنوری 1976ء تک سندھ یونیورسٹی میں سندھی شعبہ کا آغاز بھی بلوچ صاحب نے کیا اور سندھ یونیورسٹی کے بین الاقوامی شہرت یافتہ انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی کے بانی بھی نبی بخش بلوچ ہی ہیں۔

وزارتِ تعلیم

جنوری 1976ء میں نبی بخش بلوچ کو وفاقی وزارت تعلیم حکومت پاکستان میں افسرِ بکارِ خاص (OSD) مقرر کیا گیا جس کا عہدہ وفاقی سیکریٹری کے برابر دیا گیا۔ اسی زمانے میں اس ادارے کے علاوہ بلوچ صاحب ٍFederal Pay Commission کے رکن بھی رہے۔[10]

قومی کمیشن برائے تحقیق تاریخ و ثقافت

نبی بخش بلوچ نے جولائی 1979ء تا 1982ء قومی کمیشن برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، اسلام آباد کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آپ نے ادارے میں پہنچتے ہی علمی و تحقیقی منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا۔ سب سے پہلے نبی بخش نے اعلیٰ معیار کے تحقیقی مجلے کا انگریزی زبان میں اجرا کیا۔ یہ مجلہ Journal of Historic and Culture کے نام سے شروع ہوا جس میں نبی بخش بلوچ نے بھی تحقیقی مقالات لکھے اور دیگر محققین سے لکھوائے۔ نبی بخش بلوچ سے پہلے یہ ادارہ چھوٹی بڑی دس بارہ کتابیں ہی شائع کرسکا تھا۔ نبی بخش بلوچ نے محض چار سال کے عرصے میں 34 نئی کتابیں لکھوائیں جن میں سے 25 کتب شائع کرائیں۔ ان کتب میں سے پانچ سندھ سے متعلق ہیں جن میں مولانا عبد اللہ لغاری کی روایت کردہ مولاناعبیداللہ سندھی کی کابل کی ڈائری جسے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نے مرتب کیا، شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو جلدوں پر مشتمل سندھ سے بمبئی کی علیٰحدگی کی تاریخی دستاویزات بھی شائع کیں۔ اس ادارے میں قیام کے دوران میں نبی بخش بلوچ نے بڑے پیمانے پرتاریخ کانفرنسوں کا انعقاد بھی کیا۔ دیگر تحقیقی منصوبے جن پر کام کا آغاز کیا وہ یہ ہیں:

  1. پورے پاکستان کے تعمیراتی آثار کا مطالعہ
  2. ٹھٹھہ اور مکلی قبرستان کی تعمیرات کا مطالعہ
  3. اُچ شریف کی تعمیرات کا مطالعہ
  4. لاہور کی تعمیرات کا مطالعہ
  5. زیریں سندھ میں لکڑی کی تعمیرات کا مطالعہ

نبی بخش بلوچ نے مسلمانانِ پاک و ہند کی مستند، متعصبانہ آراء سے پاک اور صحیح تاریخ دنیا کے سامنے لانے کے ایک عظیم منصوبہ ترتیب دیا جس کی پہلی جلد فتح نامہ سندھ پر نبی بخش بلوچ نے خود شب و روز محنت کرکے اس کا مستند فارسی متن مع انگریزی مقدمہ تحریرکیا اور اس پر انگریزی میں مفید حواشی بھی تحریر کی۔ اس کتاب کا عربی میں ترجمہ دمشق سے کرایا اور وہیں سے کتاب 1983ء میں شائع کرائی۔ تاریخِ مسلمانانِ پاک و ہند کے اس منصوبے پر ابھی کام جاری ہی تھا کہ 1983ء میں نبی بخش بلوچ کو اس ادارے سے جدا کر دیا گیا اور یہ عظیم منصوبہ سرد خانے کی نذر ہو گیا اور یہ کام ادھورا رہ گیا۔[11]

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی

نومبر 1980ء میں نبی بخش بلوچ کو اسلام آباد میں نئی قائم شدہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ یہ عہدہ نبی بخش بلوچ نے اے کے بروہی کی ایماء پر قبول کیا جو اس یونیورسٹی کے پہلے ریکٹر مقرر کیے گئے تھے۔ بلوچ صاحب نے3 جنوری، 1981ء کو شاہ فیصل مسجد کمپلیکس کے ایک کمرے میں 81-1980ء کے تعلیمی سال کا آغاز اے کے بروہی صاحب سے کرایا۔ اس کے بعد شب و روز محنت کرکے اکتوبر 1981ء تک تمام ذیلی ادارے قائم کردیے جن میں بورڈ آف اسٹڈیز، سلیکشن بورڈ، اکیڈمک کونسل، فنانس کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔[12]اس کے علاوہ تعلیمی شعبے اور ان کے لیے اساتذہ کا انتخاب کیا۔ طلبہ کے لیے ہاسٹل اور یونیورسٹی کے عملے کے لیے رہائش کا انتظام کیا۔ شعبۂ قانون کے لیے علاحدہ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا، اس ادارے میں ججوں اور اعلیٰ پولیس افسروں کی تربیت کا آغاز کیا۔ اگست 1982ء میں بلوچ صاحب وائس چانسلر کے عہدے سے ہٹا دیے گئے۔

مشیر قومی ہجرہ کونسل اسلام آباد

نبی بخش بلوچ نے اے کے بروہی کی فرمائش پرقومی ہجرہ کونسل میں مشیر کا عہدہ قبول کیا۔ اس علمی منصوبے کے بارے میں ڈاکٹر نبی بخش بلوچ فرماتے ہیں،[13]

گزشتہ 1400 برسوں کے دوران مسلمانوں نے علم کے ہر شعبے میں خدمات انجام دیں۔ ان کی علمی و تحقیقی کتب میں سے بہت سی فنا ہو چکی ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ جو کتب بچ گئی ہیں ان میں سے 100 کتب کا عمدہ انتخاب کیا جائے، پھران کتب کے معیاری انگریزی تراجم شائع کیے جائیں اور 100 کتب کی یہ اسلامی لائبریری دنیا کے آگے پیش کی جائے جس سے دنیا کو اندازہ ہو کہ مسلمانوں نے کن کن شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ابتداء میں منصوبے میں جان ڈالنے کے لیے 100 عظیم کتب کا انتخاب کرنا تھا۔ یہ ایک نازک اور مشکل مرحلہ تھا جس کے لیے دنیا بھر کے محققین اور عالموں سے مشورے کیے۔ ان کتب کے انتخاب کے لیے ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم مقیم پیرس نے ہماری بڑی مدد کی۔ اس منصوبے کے تحت چار کتب میں نے شائع کرائیں اور نو کتب پر کام مکمل کرایا تھا، اس کے ساتھ ہے چار مزید کتب شروع ہونے والی تھیں کی اس ادارے سے ہٹا دیا گیا۔

ان 100 عظیم کتب کے تعارف کے لیے نبی بخش بلوچ نے انگریزی میں ایک کتاب Books of Islamic Civilization (اسلامی تہذیب کی عظیم کتابیں) کے نام سے لکھی جسے قومی ہجرہ کونسل نے1989ء میں شائع کیا۔ بلوچ صاحب نے ان 100 عظیم کتب کے مخطوطات کے حصول کے لیے جن کتب خانوں سے معاونت حاصل کی ان میں سلیمانیہ کتب خانہ استنبول، ظاہری کتب خانہ دمشق اور شاہی کتب خانہ رباط شامل ہیں۔ ان 100 عظیم کتب میں عالمِ اسلام کے جن محققین، حکماء، سائنس دان، ریاضی دان اور علما کی بہترین کتب کا انتخاب کیا گیا تھا ان میں شاہ ولی اللہ، الخوارزمی، ابو ریحان البیرونی، ابن سینا، یعقوب ابن اسحاق الکندی، ابن نفیس، ابن رشد، المقدسی، اصطخری، الفارابی، عمر خیام، محمد ابن زکریا الرازی شامل تھے۔ 1989ء نبی بخش بلوچ نے سبکدوشی حاصل کی۔

سندھی زبان کا بااختیار ادارہ

15 فروری، 1991ء میں بلوچ صاحب کو سندھی زبان کابااختیار ادارہ کا اولین چیئرمین مقرر کیا گیا[14]۔ سندھ اسمبلی نے اس ادارے کے قیام کے وقت تین مقاصد قرار دیے تھے جویہ ہیں،

  1. سندھی زبان کی تعلیم
  2. سندھی زبان کا فروغ
  3. سندھی زبان کا استعمال

سندھی زبان کابااختیار ادارہ کی سربراہی کے دوران میں نبی بخش بلوچ نے اشاعتی پر وگرام پر بھرپور توجہ دی اورمحض 27 ماہ میں 25 علمی و تحقیقی کتب شائع کیں۔ ان کے علاوہ ادارہ چھوڑتے وقت 9 کتب زیرِ اشاعت تھیں۔ اشاعتی پروگرام کے تحت بلوچ صاحب نے نہ صرف نئی کتب لکھوائیں بلکہ بعض قدیم و نایاب کتب کے جدید ایڈیشن بھی شائع کرائے جس میں سندھی زبان و قواعد، سندھی رسم الخط، سندھی زبان میں سائنس و ٹیکنالوجی وغیرہ کی کتب شامل ہیں۔ نبی بخش بلوچ نے اس ادارے میں 6 مارچ، 1994ء تک خدمات انجام دیں[14]۔

ادبی خدمات

جامع سندھی لغات

ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ بیک وقت پانچ زبانوں سندھی،اردو،انگریزی، عربی اور فارسی میں علمی و تحقیقی خدمات انجام دیں اور تقریباً 150 کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔

لغات کی تالیف

یک جلدی لغت
  1. سندھی-اُردو لغت (بہ اشتراک ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان)
  2. اُردو-سندھی لغت (بہ اشتراک ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان)
  3. جامع سندھی لغات (پانچ جلدیں)
  4. یک جلدی سندھی لغت

لوک ادب

سندھی صورتخطی
  1. A Survey of Traditional Culture of and the Impact of Modern Development on Cultural Tradition: A Filed Study prepared for UNESCO 1956
  2. سندھی لوک ادب (42 جلدیں) بحیثیت ڈائریکٹر و ایڈیٹر سندھی لوک ادب پروجیکٹ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

دائرۃ المعارف کے مقالات

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا کے لیے بلوچستان اور سندھ پر مضامین۔
  2. دائرۃ المعارف الاسلامیہ کے لیے کندابل بلوچستان میں گندھارا پر مضمون۔

انگریزی کتب

انگریزی نام اردو نام سال اشاعت/ناشر
Advent of Islam in Indonesia انڈونیشیا میں اسلام کی آمد 1980ء / قومی کمیشن برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، ا سلام آباد
Great Books of Islamic Civilization اسلامی تہذیب کی عظیم کتابیں 1989ء / قومی ہجرہ کونسل
Al-Beruni's Geodical Experiment at Nandana Fort البیرونی اور اس کے نندانہ قلعہ میں جغرافیہ کے تجربات 1983ء
Reflection on Evolution (Allama I.I. Kazi's Thought) 1992ء
Votes for Women, Religion and Secular Dichotomy (Allama I.I. Kazi's Thought) خواتین کے ووٹ: دینی و لادینی نکتۂ نظر (علامہ آئی آئی قاضی کے نظریات) 1999ء / علامہ آئی آئی قاضی میموریل سوسائٹی، سندھ یونیورسٹی
SINDH: Studies Cultural, Pakistan Study Centre سندھ: ثقافتی مطالعہ 2004ء / انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی
SINDH: Studies Historical, Pakistan Study Centre سندھ: تاریخی مطالعہ 2004ء / انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی
Musical Instruments of Sindh سندھ کے آلاتِ موسیقی 1967ء / مہران آرٹس کونسل، حیدرآباد
Development of Music in Sindh سندھ میں موسیقی کا ارتقا 1973ء / سندھ یونیورسٹی پریس
Musical Luminaries مسلم مشاہیر 1989ء / قومی ہجرہ کونسل
Lands of Pakistan: Perspectives, historical and cultural پاکستانی سرزمین: تاریخٰ و ثقافتی تناظر میں 1999ء / المشرقی فاؤنڈیشن
World of Work: Predicament of a Scholor 2007ء / انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی

فارسی کتب (تدوین و حواشی)

  1. فتح نامۂ سندھ، قومی کمیشن برائے تحقیق تاریخ و ثقافت، اسلام آباد، 1982ء
  2. بیگلار نامہ، سندھی ادبی بورڈ،حیدرآباد، 1982ء
  3. تاریخِ طاہری، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1964ء
  4. لبِ تاریخِ سندھ، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1959ء
  5. تکملتہ التکملہ

اُردو کتب

خطوطِ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ
  1. طلبہ و تعلیم (قائد اعظم کے بیانات)، وزارتِ تعلیم،اسلام آباد، 1976ء
  2. سندھ میں اُردو شاعری، مجلسِ ترقی ادب، لاہور، 1977ء
  3. دیوانِ صابر (تدوین وحواشی)، مرکزی اُردو بورڈ، لاہور، 1984ء
  4. مولانا آزاد سبحانی، ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان، جامعہ پنجاب،لاہور، 1989ء
  5. دیوانِ ماتم (تدوین وحواشی)، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، 1990ء
  6. خطو ط ڈاکٹر نبی بخش بلو چ مرتب محمد راشد شیخ، محکمہ ثقافت حکومتِ سندھ
  7. ایام گذشتہ کے چند اوراق (علمی اسفار کی یاداشتیں)، ترتیب، حواشی و تعلیقات ڈاکٹر محمد ادریس سومرو، محکمہ ثقافت حکومتِ سندھ، 2014ء

عربی کتب

  1. نتف من شعر ابی عطاء السندی (تحقیق و تدوین)، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1961ء
  2. غرۃ الزیجات (تحقیق و تدوین و حواشی) علمِ فلکیات پر البیرونی کی کتاب، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1973ء
  3. جامع الکلام فی منافع الانام (خطوط) (تحقیق و تصحیح) سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

سندھی کتب

  1. سندھی لوک ادب (42 جلدیں) سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد
  2. شاہ جو رسالو (تحقیق، ترتیب، حواشی) 10 جلدیں، محکمۂ ثقافت و سیاحت، کراچی
  3. شاہ لطف اللہ قادری جو کلام، انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی، سندھ یونیورسٹی، 1968ء
  4. شاہ عنایت جو کلام، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1963
  5. خلیفی صاحب کا رسالہ (خلیفہ نبی بخش کا کلام) سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1966ء
  6. کلیاتِ حمل، سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد، 1953
  7. سندھی موسیقی جی مختصر تاریخ ( سندھی موسیقی کی مختصر تاریخ)، شاہ عبد اللطیف ثقافتی مرکز بھٹ شاہ، 1978ء
  8. سندھی صورتخطی اور خطاطی،سندھی لینگویج اتھارٹی، حیدرآباد، 1992ء
  9. سندھی زبان کا اوائلی منظم زخیرہ، سندھی لینگویج اتھارٹی، حیدرآباد، 1993ء
  10. سندھی زبان و ادب کی تاریخ، پاکستان اسٹڈی سینٹر، سندھ یونیورسٹی جامشورو، 1999ء

ناقدین کی رائے

ڈاکٹر مختارالدین احمد (سابق صدرشعبۂ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)[15]

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اسلام آباد، حکومت پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہاں کی دو جامعات (سندھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی) کے وائس چانسلر ہوئے۔ ہجرہ کونسل، سندھی ادبی بورڈ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈکلچرل ریسرچ اور دوسرے علمی اداروں کے بڑے کامیاب سربراہ رہے۔ ان کی زندگی ترقیوں اور کامرانیوں سے معمور ہے۔ پاکستان میں کون صاحبِ علم و صاحبِ ذوق ایسا ہے جو ان کے علمی کارناموں سے واقف نہیں۔ ان کے کارنامے نہ سہی ان کے کارناموں کی خوشبو سرحدوں کو عبور کرتی ہوئی یہاں (ہندوستان) بھی پہنچی۔

ڈاکٹر عبد القادر جونیجو (سابق صدر شعبۂ سندھی سندھ یونیورسٹی و چیئرمین سندھی ادبی بورڈ)[16]

ڈاکٹر بلوچ صاحب کی زندگی اور جدوجہد کی داستان قابلِ تقلید ہے۔ افسر، پروفیسر، ماہرِ تعلیم و منتظم، وائس چانسلر اور وزیر کے عہدوں پر رہے۔ ہر کام ہمت، محنت، سلیقہ اور تیز رفتاری سے کیا۔ وقت کا صحیح استعمال کیا۔ ایسےقلم کا شہسوار کہ ان کا ہر پل تحقیق، تدوین، محنت اور مشقت کے لیے وقف ہے۔

ڈاکٹر غلام علی الانا (ماہرِ لسانیات، محقق)

اہلِ سندھ کو چاہیے کہ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ صاحب سے زیادہ سے زیادہ اتفادہ کریں۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ صاحب کو کرسیوں اور عہدوں کی پروا کبھی نہیں رہی۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ اسلام آباد میں، لاہور میں، پشاور میں، بلوچستان ہی میں نہیں بلکہ بیرونِ پاکستان میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اعزازات

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے ستارۂ امتیاز اور صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ 2005ء میں اکادمی ادبیات پاکستان نے آپ کی گرانقدر ادبی خدمات کے صلے میں پاکستان کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ کمال فن ادب انعام سے نوازا۔

وفات

ڈاکٹر نبی بخش بلوچ 6 اپریل 2011ء کو حیدرآباد، پاکستان میں حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث93 سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔[17][18]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد،، 2007، ص 24
  2. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد،، 2007، ص 25
  3. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، ،2007، ص 28
  4. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص 29
  5. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد،، 2007، ص33
  6. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص51
  7. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص46
  8. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص59
  9. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص60
  10. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص 60
  11. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص 61-63
  12. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص 63
  13. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص 65-66
  14. ^ 14.0 14.1 چیئرپرسنز، سندھی لینگویج اتھارٹی ویب
  15. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد،، 2007، ص148
  16. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ: شخصیت و فن، محمد راشد شیخ، اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد، 2007، ص149
  17. ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا انتقال، ڈیلی ڈان کراچی، 6 اپریل 2011ء
  18. محقق و ادیب ڈاکٹر نبی بخش بلوچ انتقال کر گئے، رپورٹ عمیر ریاض، اردو وائس آف امریکا، 6 اپریل 2011ء

بیرونی روابط

The article is a derivative under the Creative Commons Attribution-ShareAlike License. A link to the original article can be found here and attribution parties here. By using this site, you agree to the Terms of Use. Gpedia Ⓡ is a registered trademark of the Cyberajah Pty Ltd.